خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 382
۳۷۸ ” خلیفہ راشد وہ شخص ہے جو صاحب منصب امامت ہو اور سیاستِ ایمانی کے معاملات اس سے ظاہر ہوں۔جو اس منصب تک پہنچا وہی خلیفہ راشد ہے۔خواہ زمانہ سابق میں ظاہر ہوا،خواہ موجودہ زمانہ میں ہو ،خواہ اوائل امت میں ہو، خواہ اس کے آخر میں۔۔۔پس جیسا کہ کبھی کبھی دریائے رحمت سے کوئی موج سر بلند ہوتی ہے اور ائمہ ہدی میں سے کسی امام کو ظاہر کرتی ہے۔ایسا ہی اللہ کی نعمت کمال تک پہنچتی ہے تو کسی کو تخت خلافت پر جلوہ افروز کر دیتی ہے اور وہی امام اس زمانہ کا خلیفہ راشد ہے۔اور وہ جو حدیث میں وارد ہے کہ ” خلافت راشدہ کا زمانہ رسولِ مقبول علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد تمیں سال تک ہے۔اس کے بعد سلطنت ہوگی۔اس سے مراد یہ ہے کہ خلافت راشدہ متصل اور تواتر طریق پر تمیں سال تک رہے گی۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قیام قیامت تک خلافت راشدہ کا زمانہ وہی تمیں سال ہے اور بس۔بلکہ حدیث مذکورہ کا مفہوم یہی ہے کہ خلافت راشدہ میں سال گزرنے کے بعد منقطع ہو گی نہ یہ کہ اس کے بعد پھر خلافت کبھی عود ہی نہیں کر سکتی۔بلکہ ایک دوسری حدیث خلافت راشدہ کے انقطاع کے بعد پھر عود کر نے پر دلالت کرتی ہے۔۔۔۔یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ خلافت کا زمانہ اوائل امت یعنی زمانہ خلفائے اربعہ کا تھا یا اواخر اُمت میں مہدی علیہ السلام کا زمانہ ہوگا اور ان کے درمیان کا زمانہ معطل ہے کہ ہرگز اس میں خلافتِ راشدہ ظاہر ہونے کی نہیں۔“ ( 'منصب امامت از حضرت سید محمداسمعیل شہید ( مترجم ) صفحه ۸۲ تا ۸۵ مطبوعه ۱۹۴۹ء ناشر حکیم محمد حسین مومن پورہ لاہور ) یعنی خلافت راشدہ جو امام مہدی علیہ السلام کے بعد ہوگی ،اس کی نوعیت اور منہاج اُسی خلافت