خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 380 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 380

أُخْرِجَتْ لِلنَّاس کے کیا معنی ہیں۔سواے لوگو جو مسلمان کہلاتے ہو برائے خدا سوچو کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں ہمیشہ قیامت تک تم میں روحانی زندگی اور باطنی بینائی رہے گی۔اور غیر مذہب والے تم سے روشنی حاصل کریں گے۔اور یہ روحانی زندگی اور باطنی بینائی جو غیر مذہب والوں کو حق کی دعوت کرنے کے لئے اپنے اندر لیاقت رکھتی ہے، یہی وہ چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں خلافت کہتے ہیں۔پھر کیونکر کہتے ہو کہ خلافت صرف تمہیں برس تک ہوکر پھر زاویہ عدم میں مخفی ہوگئی۔“ (شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۵) یعنی خلافت روحانی ، بادشاہت نہیں ہے ورنہ مسلمانوں میں بہت سے بادشاہ گزرے ہیں۔انہیں روحانی خلیفہ تسلیم نہیں کیا گیا۔حق کی دعوت کے لئے لیاقت کا تعلق روحانی خلافت سے ہے بادشاہت سے نہیں۔اللہ جل شانہ نے اسلامی امت کے کل لوگوں کے لئے ہمارے نبی ﷺ کو شاہد ٹھہرایا ہے اور فرمایا إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ اور فرمایا وَ جِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا مگر ظاہر ہے کہ ظاہری طور پر تو آنحضرت صرف تئیس برس تک اپنی امت میں رہے۔پھر یہ سوال کہ دائمی طور پر وہ اپنی امت کے لئے کیونکر شاہد ٹھہر سکتے ہیں۔یہی واقع جواب رکھتا ہے کہ بطور استخلاف کے یعنی موسیٰ علیہ السلام کی مانند خدا تعالیٰ نے آنحضرت ا کے لئے بھی قیامت تک خلیفے مقرر کر دیئے اور خلیفوں کی شہادت بعینہ آنحضرت ﷺ کی شہادت متصور ہوئی اور اس طرح پر مضمون آیت إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ بِ یک پہلو سے درست ہو گیا۔غرض شہادت دائگی کا عقیدہ جو نص قرآنی سے بتواتر ثابت اور تمام مسلمانوں کے نزدیک مسلم ہے تبھی معقولی اور تحقیقی طور