خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 292
۲۸۸ کہ خلافت کے لئے نبوت کی سرزمین درکار ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : مَا كَانَتْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَبِعَتْهَا خِلَافَةٌ کہ کوئی ایسی نبوت نہیں جس کے بعد خلافت کا نظام نہ جاری ہوا ہو۔یعنی اس حدیث کا مال ہے کہ ممکن نہیں کہ نبوت کے بغیر کبھی بھی خلافت جاری ہو۔چنانچہ آپ کو تا ریخ عالم میں خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا قیام کہیں بھی نبوت کے بغیر نہیں ملے گا۔اس لئے اگر کوئی تحریک خلافت کے قیام کے لئے سنجیدہ ہے تو اس کے لئے تو اس لائحہ عمل کی پیروی ضروری ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔یعنی خلافت سے پہلے نبوت کو ماننا ضروری ہے۔قرآن کریم اور آنحضرت ام کی پیشگوئیوں کے مطابق دورِ حاضر میں خلافت کا قیام ایک الہی منشاء تھا۔دینِ مصطفیٰ کو اس کی اشد ضرورت تھی۔اسی لئے اللہ نے اس زمانہ میں مسیح موعود و مہدی معہود کی آمد مقدر فرمائی تھی اور اسے نبوت کے مقام پر سرفراز فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نبی قرار دیا اس پر ایمان لانا اور اس کی بیعت کرنالازم ٹھہرایا ہے۔پھر اس کے بعد خدا تعالیٰ نے اس کی جماعت میں خلافت علی منہاج النبوة کا سلسلہ جاری فرمایا ہے۔پس خدا تعالیٰ کی یہ قطعی تقدیر ہے کہ اس خلافت کے علاوہ دنیا میں اور کوئی خلافت قائم نہیں ہوسکتی کیونکہ یہی ایک خلافت ہے جو مَا كَانَتْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَبَعَتْهَا خِلَافَةٌ کے مطابق قائم ہوئی ہے۔خدا تعالیٰ اس کی نصرت فرماتا ہے۔اس میں وہ تمام علامتیں اور صفات خلافت حقہ کی موجود ہیں جو قرآن کریم نے اس کے لئے ضروری قرار دی ہیں۔پس یہی وہ خلافت ہے جو اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے قائم فرمائی ہے اور یہی وہ خلافت حقہ اسلامیہ احمد یہ ہے جس کی صداقت کو نبوت کی صداقت کے معیار پر پرکھا جا سکتا ہے۔یہی وہ خلافت ہے جو معیار صداقت نبوت إِنَّا لَتَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْأَشْهَادُ ( کہ ہم یقیناً اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں بھی اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے نصرت کرتے ہیں (المومن : ۵۲ ) ) کے تحت خدا