خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 293
۲۸۹ تعالیٰ سے تائید و نصرت حاصل کرتی ہے۔لہذا اگر کوئی خلافت قائم کرنے کا متمنی ہے تو اس کے لئے لازم ہے کہ وہ پہلے کوئی نبوت قائم کرے تا کہ پھر اس نبوت کی زمین پر خلافت کا قیام ہو سکے۔لیکن اسے اس کے لئے اپنی ” ختم نبوت کی نام نہاد تشریح تبدیل کرنی پڑے گی۔پس خلافت کا قیام ایک ایسا مسئلہ ہے جو اُن لوگوں کے لئے ایک زبر دست عملی اور اعتقادی الجھاؤ رکھتا ہے ، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو چھوڑ کر خو د خلافت کے قیام کی ترکیبیں سوچتے ہیں۔یہاں یہ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی سرزمین پرنئی خلافت قائم کر رہے ہیں اس لئے کسی نبوت کی ضرورت نہیں۔بظا ہر تو یہ بات معقول اور بہت بھلی نظر آتی ہے لیکن اس کا بطن سخت فتیح اور بھیا نک ہے کیونکہ اس کا آخری نتیجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا۔اگر کسی میں یہ طاقت ہوتی اور وہ اس قابل ہوتا کہ آخری زمانہ میں خلافت علی منہاج النبوۃ قائم کر سکتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی پیشگوئی فرماتے نہ کہ نبی اللہ مسیح و مہدی کی آمد کی۔جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم فرمودہ کھلے کھلے اور غیر مبہم لائحہ عمل سے روگردانی کرتے ہوئے کوئی خود ساختہ لائحہ عمل تجویز کرتا ہے، ظاہر ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کھلا کھلا نافرمان ہے۔وہ ایک طرف اس بچے مسیح و مہدی کا انکار کر کے نافرمانی کر رہا ہے تو دوسری طرف نیا لائحہ عمل تجویز کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے اور تیسرے یہ کہ خدا تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے مقابل پر اپنی بھری ، بودی اور احمقانہ تجاویز پیش کرتا ہے۔الغرض اس طرح خلافت نہ کبھی قائم ہوئی ہے، نہ قائم ہو سکتی ہے۔جو طریقہ خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے اور جو لائحہ عمل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے ،صرف وہی قابل عمل ہے اور اسی کے مطابق خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں نبوت کے ذریعہ خلافت حقہ اسلامیہ احمدیہ کا قیام فرمایا ہے اس کے علاوہ کسی اور خلافت کا قیام بہر حال ناممکن ہے۔جو تحریک اور جو سیاست کسی نام نہا دخلافت کے قیام کے لئے اٹھے گی ، خدا تعالیٰ کے قول اور اس کے فعل سے متصادم ہوگی۔