خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 266 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 266

۲۶۲ فرقوں کے ایکے کو بڑے زور و شور کے ساتھ پیش کیا گیا اور اس کی چار سُو وسیع اشاعت کی گئی۔لہذا اس میں قائم خلافت پر بھی وہی مذکورہ بالا نتیجہ صادق آتا ہے جو دیگر فرقوں یا گروہوں پر صادر ہوا ہے۔اس کا جواب دراصل اسی ایکے میں موجود ہے جو اس جماعت کے خلاف مسلمانوں کے تمام فرقے کر چکے ہیں۔یہی اکٹھ اور ایکا اسے رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق سچا اور برحق ثابت کرتا ہے۔رسول اللہ سلم نے جب اپنی امت کے دوسرے دور میں خلافت علی منہاج النبوۃ کے قیام کی خبر دی تو اس کے ساتھ ایک خبر یہ بھی دی کہ و, جب امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی تو ان میں سے باقی سارے تو ایک طرف آگ میں ہوں گے اور ایک ہوگا جو اُن سے الگ ہوگا۔وہ ناری نہیں ہو گا۔“ ترندی کتاب الایمان باب افتراق هذه الامته ) پس تاریخ اسلام کا یہ حیرت انگیز واقعہ تھا جو ۱۹۷۴ ء میں رونما ہوا کہ سب فرقوں نے ایکا کیا اور اعلان کیا کہ وہ سب ایک طرف اکٹھے ہیں اور جماعت احمد یہ ان سے باہر ہے۔چنانچہ یہ اعلان کیا گیا کہ پوری امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار چاہے وہ مرزا غلام احمد کی نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں ، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔66 ( قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ صفحہ ۱۳۹۸ از شیخ الحدیث مولانا عبدالحق۔ناشر مؤتمر المصنفین دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک ) آنحضرت ﷺ کے قائم کردہ معیار کے مطابق اس ایکے سے جماعت احمدیہ کا قطعی، لازمی اور منطقی طور پر برحق ہونا ثابت ہوتا ہے۔جس سے یہ سچائی بھی پایہ ثبوت پہنچتی ہے کہ اس میں قائم خلافت ہی دراصل وہ خلافت علی منہاج النبوت ہے جو آنحضرت ام کی پیشگوئی کی