خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 265
۲۶۱ گے۔میری سمجھ میں ان تہیں دجالوں میں ایک مودودی ہیں۔“ فقط والسلام محمد صادق عفی عنہ مہتم مدرسہ مظہر العلوم محلہ کھڑہ کراچی ۲۸/ذوالحجہ ۱۳۷۱ھ ۱۹ ستمبر ۱۹۵۲ء حق پرست علماء کی مودودیت سے ناراضگی کے اسباب: مرتبہ مولوی احمد علی۔شائع کردہ: انجمن خدام الدین لاہور، ۱۹۵۲ء صفحہ ۹۷) اسی طرح دیوبندی عالم ، جمعیت علماء کے صدر مولانا مفتی محمود صاحب نے اعلان کیا کہ: مودودی گمراہ ، کافر اور خارج از اسلام ہے۔اس کے اور وو اس کی جماعت سے تعلق رکھنے والے کسی مولوی کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز اور حرام ہے۔اس کی جماعت سے تعلق رکھنا صریح کفر اور ضلالت ہے۔(ہفت روزہ زندگی، ۱۰ نومبر ۱۹۶۹ء۔منجانب جمعیتہ گارڈ۔لائل پور ) پس تکفیر کی اس اندھیر نگری میں نہ اہل سنت کے گروہ میں خلافت کے قیام کا امکان باقی رہتا ہے نہ اہل تشیع میں۔ان میں شریعت کی جزئیات کی تشریح اور عقائد میں ایسی وسیع خلیج موجود ہے کہ اسے پاٹنا کسی کے بس میں نہیں۔اس ماحول میں اگر ایک فرقہ یا گروہ میں کسی شخص کو لیڈر بنا کر اسے خلیفہ قرار دے دیا جاتا ہے تو مذکورہ بالا فتووں کا شرعی تقاضا یہ ہے کہ وہ ” خلیفہ دوسرے کسی نہ کسی فرقہ یا گروہ کے نزدیک لازماً شرعی طور پر کافر ہو گا۔لہذا اس کے ہاتھ پر امت کا جمع ہونا ایک عبث خیال ہے۔اس لائحہ عمل سے خلافت کا قیام قطعی ناممکن ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہ خلافت کے مدعی کہاں ، کس مسلک کی اور کس قسم کی خلافت قائم کرنے کے خواہشمند ہیں؟ یہاں اس سوال کی تشفی ہونی بھی ضروری ہے کہ فتاؤئے کفر کے اس ماحول میں جماعت احمد یہ بھی تو کافر قرار دی گئی ہے۔بلکہ یہی وہ ایک جماعت ہے کہ اس کے کفر پر مسلمانوں کے تمام فرقوں کا اکٹھ اور ایکا ہو چکا ہے۔خصوصاً ۱۹۷۴ء میں اس کے خلاف سب