خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 267
۲۶۳ حقیقی تعبیر ہے۔دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ جب ساری امت ہی ناری قرار دی جا رہی ہو تو ظاہر ہے کہ وہ لا زمانہ ایمان کی حقیقی بنیاد پر قائم ہے اور نہ ہی اس میں اعمالِ صالحہ کا صدور ممکن ہے۔ایسی حالت میں آنحضرت ا ہم نے امت کے لئے اللہ تعالیٰ کی تقدیر یہ بیان فرمائی تھی کہ وہ اس میں اپنی طرف سے امام مبعوث فرمائے گا جو اس کے لئے حکم وعدل اور مسیح و مہدی ہوگا۔اس کی جاری کردہ خلافت، در اصل خدا تعالیٰ کی قائم کردہ خلافت ہے جو ایمان اور عملِ صالح کے وعدہ الہیہ پراستوار ہے اور اپنے اندر خلافت حقہ اسلامیہ کی تمام شرائط ،صفات ، نشانیاں اور سچائیاں سموئے ہوئے ہے۔ممکن ہی نہیں کہ اس کے علاوہ کوئی اور نسخہ ہو جو کسی جماعت یا گروہ میں خلافت کے قیام کے لئے کارگر ہو۔پس جماعت احمد یہ ان فرقوں اور گروہوں سے الگ اور جدا وہ کچی جماعت ہے جو اپنے وجود میں سچائی اور ایمان کی کشش رکھتی ہے اور انہی بنیادوں پر دیگر فرقوں سے سعید روحوں کو اپنی طرف کھینچتی چلی جارہی ہے۔یہ عمل تیز سے تیز تر اور وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ہاں اس مذکورہ بالا سوال کا تیسرا جواب یہ ہے کہ جماعت احمد یہ پر فتاوی کفر اور دیگر جماعتوں یا فرقوں پر فتاوی کفر کی بنیاد، وجہ اور گنہ مختلف ہے۔دیگر فرقے جب ایک دوسرے کو کا فرقرار دیتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے بعض عقائد ایسے ہیں جو قرآن وسنت و حدیث سے منافی ہوتے ہیں۔یا بعض عقائد میں غلو یا افراط و تفریط کا عنصر پایا جاتا ہے۔اس بنیاد پر ایک فرقہ دوسرے کو کا فرقرار دے دیتا ہے۔بسا اوقات ان فتاوی کفر کی وجوہات ذاتی یا سیاسی بھی ہوتی ہیں۔لیکن اس موقع پر ان کی تفصیلات میں جانا مقصود نہیں۔جہانتک جماعت احمدیہ پر فتاوی کفر کا تعلق ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کوئی عقیدہ وطریق وغیرہ منافی قرآن وسنت یا حدیث اختیار کیا تھا بلکہ اس کی وجہ خالصہ وہ سچائی اور عرفان ہے جس کی وجہ سے ہمیشہ خدا تعالیٰ کے انبیاء،