خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 189
۱۸۶ تلوار کھینچ کر اُن کو مقابلہ کی اجازت دلوا دیا کرتے ہیں۔کیا محمد رسول اللہ علیہم امن پسند نہ تھے۔مگر مخالفین کے ظلموں کی وجہ سے آخر اللہ تعالیٰ نے اُن کو مقابلہ کی اجازت دے دی۔جیسا کہ فرمایا: أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُوْنَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوْا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ جن لوگوں کو خواہ مخواہ نشانہ مظالم بنایا گیا اب ان کو بھی اجازت ہے کہ مقابلہ کریں۔پس سپین کے لوگ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک یوں مقدر ہے تو ہماری تبلیغ تعلیم سے ہی کفر و شرک چھوڑ دیں گے اور یا پھر ہم پر اتناظلم کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقابلہ کی اجازت ہو جائے گی اور وہ جنہوں نے کان پکڑ کر مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکالا تھا، کان پکڑ کر محمد رسول اللہ سلم کے مزار پر حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ حضور کے غلام حاضر ہیں۔(1) خطہ کشمیر کی آزادی کے متعلق پیشگوئی حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: الفضل قادیان ۶ رمئی ۱۹۴۴ء) کشمیر کے مسلمان یقینا غلام ہیں اور ان کی حالت دیکھنے کے بعد بھی جو یہ کہتا ہے کہ ان کو کسی قسم کے انسانی حقوق حاصل ہیں وہ یا تو پاگل ہے اور یا اول درجہ کا جھوٹا اور مکار۔ان لوگوں کو خدا تعالیٰ نے بہترین دماغ دیئے ہیں اور ان کے ملک کو دنیا کی جنت بنایا ہے مگر ظالموں نے بہترین دماغوں کو جانوروں سے بدتر اور انسانی ہاتھوں نے اس بہشت کو دوزخ بنا دیا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کی غیرت نہیں چاہتی کہ خوبصورت پھول کو کا نٹا بنا دیا جائے۔اس لئے وہ آپ چاہتا ہے کہ جسے اس نے پھول بنایا ہے وہ پھول ہی رہے اور کوئی ریاست اور حکومت اُسے کا نشانہیں بنا سکتی۔روپیہ،