خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 188
۱۸۵ دیکھ رہے ہیں جو ہمیں پیش آنے والے ہیں، ہم ان جسمانی اور مالی اور سیاسی مشکلات کو بھی دیکھتے ہیں جو ہمارے سامنے رونما ہونے والی ہیں مگر ان سب دھندلکوں میں سے پار ہوتی ہوئی اور ان سب تاریکیوں کے پیچھے ہماری نگاہ اس اونچے اور بلند تر جھنڈے کو بھی انتہائی شان وشوکت کے ساتھ لہراتا ہوا دیکھ رہی ہے جس کے نیچے ایک دن ساری دُنیا پناہ لینے پر مجبور ہوگی۔یہ جھنڈا خدا کا جھنڈا ہوگا ، یہ جھنڈا محمد رسول اللہ علیم کا ہوگا۔۔۔۔۔یہ سب کچھ ایک دن ضرور ہو کر رہے گا۔بے شک دنیوی مصائب کے وقت کئی اپنے بھی کہ اُٹھیں گے کہ ہم نے کیا سمجھا تھا اور کیا ہو گیا مگر یہ سب چیزیں مٹتی چلی جائیں گی ہٹتی چلی جائیں گی، آسمان کا نُورظاہر ہوتا چلا جائے گا اور زمین کی تاریکی دُور ہوتی چلی جائے گی اور آخر وہی ہوگا جو خدا نے چاہا، وہ نہیں ہوگا جود نیا نے چاہا“۔(۵) چین میں دین حق کا پرچم لہرانے کی پیشگوئی حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں : الفضل قادیان ۱۲ مئی ۱۹۴۹ء) وہ دن دور نہیں جب اس جرنیل ( عبدالعزیز۔ناقل ) کے خون کے قطروں کی پکار اس کی جنگلوں میں چلانے والی روح اپنی کشش دکھالے گی اور سچے مسلمان پھر سپین پہنچیں گے اور وہاں اسلام کا جھنڈا گاڑ دیں گے۔اس کی روح آج بھی ہمیں بلا رہی ہے اور ہماری روحیں بھی یہ پکار رہی ہیں کہ اے شہید وفا اتم اکیلے نہیں ہو۔محمد رسول اللہ سلم کے دین کے نچے خادم منتظر ہیں۔جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے گی اور پروانوں کی طرح اس ملک میں داخل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے نور کو وہاں پھیلائیں گے۔یہ سوال نہیں کہ ہم امن پسند جماعت ہیں۔مخالف امن پسندوں پر بھی