خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 187
۱۸۴ (۳) نئی روی نسل میں بغاوت کی حیرت انگیز پیشگوئی حضرت خلیفتہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: بالشوزم کے موجودہ نظام پر نہیں جانا چاہئے۔وہ اس وقت زار کے ظلموں کو یا در کھے ہوئے ہے۔جس دن یہ خیال ان کے دل سے بھولا پھر یہ طبعی احساس کہ ہماری خدمات کا ہم کو صلہ ملنا چاہئے ان کے دلوں میں پیدا ہو جائے گا۔نئی پود بغاوت کرے گی اور اس تعلیم کی ایسی شناخت ظاہر ہوگی کہ ساری دُنیا حیران رہ جائے گی“۔نظام نو صفحه ۹۸، تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۲ء) اشتراکیت کا خاکہ کارل مارکس اور فریڈرک اینجلز نے تیار کیا۔لینن نے اس خاکہ کو دنیا کے نقشہ میں جگہ دی اور سٹالن نے اپنے بیس سالہ زمانہ اقتدار میں اسے ایک عالیشان عمارت بنا ڈالا۔اس بناء پر سٹالن کی زندگی میں ٹالن ازم اور بالشوزم ہم معنی لفظ بن گئے۔لیکن ابھی سٹالن کا کفن میلا بھی نہ ہوا تھا کہ اس کے پہلے جانشین مسٹر مالنکوف نے سٹالن کے خلاف ایک زبردست باغیانہ تحریک بلند کر دی جو روسی ملک کے طول و عرض میں آگ کی طرح پھیل گئی۔چنانچہ وہ روس جو کبھی سٹالن کی فولادی شخصیت کو بالشوزم کی مجسم تصویر قرار دیتا تھا آج ستالینی نظریات کے بنئے ادھیڑ رہا ہے۔وہاں اب کارل مارک اور فریڈرک اینجلز کے نظریات ناکارہ اور فضول قرار پاچکے ہیں۔(۴) دین حق کی عالمگیر حکومت کے قیام کی پیشگوئی حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں : ہم سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں بلکہ ہم سمجھتے اور یقین ہی نہیں رکھتے ، ہم اپنی روحانی آنکھوں سے وہ چیز دیکھ رہے ہیں جو دُنیا کو نظر نہیں آتی۔ہم اپنی کمزوریوں کو بھی جانتے ہیں ، ہم ان مشکلات کو بھی جانتے ہیں جو ہمارے رستہ میں حائل ہیں، ہم مخالفت کے اُس اُتار چڑھاؤ کو بھی جانتے ہیں جو ہمارے سامنے آنے والا ہے، ہم ان قتلوں اور غارتوں کو بھی