خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 8
حقیقت کھل گئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ” اَصْحَابِيْ كَا لَنُّجُوْمِ بِأَيِّهِم اقْتَدَيْتُمِ اهْتَدَيْتُمْ کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔کسی ایک کی بھی پیروی کرو تو راہِ ہدایت حاصل کر سکتے ہو کتنا عظیم مقام ہے صحابہ رضوان اللہ علیہم کا کہ ہدایت کے لئے بڑے سے بڑے بزرگ کو بھی انہی کے در سے راہنمائی ملتی ہے۔گویا چودہ صدیوں کے گل اولیاء اللہ اور مجد دین خادم اور مطبع ہیں ایک صحابی کے اور ادھر کل صحابہ دربار ابوبکر میں سر تسلیم خم کئے نظر آتے ہیں خلیفہ وقت کے سامنے۔یعنی تمام صحابہ خادم اور مطیع ہیں خلیفہ وقت کے۔وہ عظ ظیم الشان وجود، نورِ بصیرت سے معمور صحابہ کرام جن کے ارادوں سے سنگلاخ چٹانیں بھی موم ہو گئیں۔جن کی ایک نظر چلتے قافلوں کا رُخ بدل دیتی تھی۔جن کا ایک فیصلہ حکومتوں کی کایا پلٹ دیتا تھا۔بڑی بڑی سلطنتوں کے صاحب جبروت بادشاہوں اور شہنشاہوں کے سامنے بھی جن کا سر عظمت کی وجہ سے اٹھا ہوتا تھا۔آج ان تمام کا سر خلیفہ وقت کے سامنے جھکا نظر آتا ہے۔سب کے ارادے، سب کی آراء خلیفہ وقت کے فیصلہ اور عزم کے سامنے ایک تابع اور مطیع کی رائے کے سوا کوئی اور حیثیت نہیں رکھتیں۔وہی صحابہ جن کا قول تمام امت مسلمہ کے لئے واجب العمل ہے، خلیفہ وقت کا قول ان سب صحابہ کے قول پر فائق اور اولی ہے۔۔۔وہی صحابہ، اگر ان میں سے کسی ایک کے نمونہ کو اپنایا جائے تو ہدایت مل جاتی ہے۔یہ تمام ہدایت حاصل کرنے والے ہیں خلیفہ وقت سے بہر حال اس واقعہ نے اُمتِ مسلمہ پر واضح کر دیا کہ ا: ۴ اللہ تعالیٰ کے نبی کے بعد دنیا میں سب سے بڑا مؤخد اور سب سے بڑا متوکل باللہ انسان خلیفہ راشد ہوتا ہے۔نبی کے بعد اس کا خلیفہ اسی کے ظلن میں ویسی ہی عظمت شان رکھتا ہے اور اس کے شاملِ حال بھی وہی تائید الہی ہوتی ہے جو نبی کے ساتھ ہوتی ہے۔وہ نبی کے بعد مومنوں کا غیر مشروط طور پر واجب الاطاعت امام، مطاع اور آتا ہے۔بلا شرکت غیر امت محمدیہ کا راہنما وہی ایک وجود ہے۔