خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 7
رسول کے نفاذ کے لئے اور ارشاد رسول کی تعمیل کے لئے ایک مؤمن کے اندر دنیا کے ہر عزیز ترین رشتہ سے بھی زیادہ غیرت ہونی ضروری ہے۔اس کا تقدس اس کی ہر متاع عزیز اور ہر عزت کے تعلق سے زیادہ مقدس ہے۔الغرض آپ نے آنحضرت ﷺ کے حکم کو کما حقہ قائم رکھا اور نافذ فرمایا اور جو صحابہ حضرت اسامہ کے لشکر میں شامل تھے انہیں واپس جرف کے مقام پر جا کرلشکر میں شامل ہونے کا ارشاد فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ ہر وہ شخص جو پہلے اسامہ کے لشکر میں شامل تھا اور اسے رسول اللہ ہم نے اس میں شامل ہونے کا ارشاد فرمایا تھا، وہ ہر گز پیچھے نہ رہے اور نہ ہی میں اسے پیچھے رہنے کی اجازت دوں گا۔اسے خواہ پیدل بھی جانا پڑے وہ ضرور ساتھ جائے گا۔(زرقانی سریہ اسامہ بن زید) لشکر ایک بار پھر تیار ہو گیا۔بعض صحابہ نے حالات کی نزاکت کے باعث پھر مشورہ دیا کہ فی الحال اس لشکر کو روک لیا جائے۔لوگوں کی رائے لے کر حضرت عمرؓ آپ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے پھر اسی آہنی عزم کے ساتھ ارشاد فرمایا : لَوْ خَطَفَتْنِيَ الْكِلابُ وَالدِّقَابُ لَأَنْفَذْتُهُ كَمَا أَمَرَ بِهِ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ وَلَا أَرُدُّ قَضَاءً قَضَى بِهِ رَسُوْلُ اللَّهِ وَلَوْ لَمْ يَبْقَ فِي الْقُرَى غَيْرِي لَأَنْفَذْتُهُ 66 ابن اثیر ذکر انفاذ جیش اسامہ بن زید) کہ اگر کتے اور بھیڑیئے مجھے گھسیٹتے بھی پھریں تو بھی میں اس لشکر کو رسول اللہ سلم کے فیصلہ کے مطابق بھجوا کر رہوں گا۔اور میں رسول اللہ سلم کا جاری فرمودہ فیصلہ نافذ کر کے رہوں گا۔ہاں اگر بستیوں میں میرے سوا کوئی بھی باقی نہ رہے تو بھی میں اس فیصلہ کو نافذ کروں گا۔حضرت ابو بکر کے اس عزم راسخ اور حتمی فیصلہ نے جہاں باغیوں اور مرتد وں پر ایک رعب قائم کر دیا کہ اگر ان حالات میں بھی ایک عظیم لشکر مدینہ سے باہر جا سکتا ہے تو مدینہ میں لازماً طاقتور انتظام موجود ہوگا۔وہاں ہر شخص پر ابتدائے خلافت میں ہی خلیفۃ الرسول کے اولوالعزم بلند مقام کی