خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 164
۱۶۱ حضرت خلیفہ اسیح الاول اور آپ کا دورِ خلافت حاجی الحرمین حضرت حافلا مولوی نورالدین صاحب طریقہ اسی الاول ۱۹۳۱ء میں پنجاب کے ایک قدیم شہر بھیرہ میں پیدا ہوئے۔والد کا نام حافظ غلام رسول اور والدہ کا نام نور بخت تھا۔۳۲ ویں پشت میں آپ کا شجرہ نسب حضرت عمر فاروقی سے ملتا ہے۔آپ کے خاندان میں بہت سے اولیاء و مشائخ گزرے ہیں۔گیارہ پشت سے تو حفاظ کا سلسلہ بھی برابر چلا آتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ اس مقدس خاندان کو ابتداء سے ہی قرآنِ کریم سے والہانہ شغف رہا ہے۔آپ نے ابتدائی تعلیم ماں باپ سے حاصل کی پھر لاہور اور راولپنڈی میں تعلیم پائی۔سکول سے فارغ ہو کر چار سال پنڈ دادنخان میں سکول کے ہیڈ ماسٹر رہے۔پھر ملا زمت ترک کردی اور حصول علم کے لئے رامپور، لکھنؤ ، میرٹھ اور بھوپال کے سفر اختیار کئے۔ان ایام میں آپ نے عربی، فارسی، منطق ، فلسفہ ،طب غرض ہر قسم کے مروجہ علوم سیکھے۔قرآن کریم سے قلبی لگاؤ تھا اور اس کے معارف آپ پر کھلتے تھے۔آپ کو تو کل کا اعلیٰ مقام حاصل تھا۔ہر وقت دعاؤں سے کام لیتے تھے۔جہاں جاتے غیب سے آپ کے لئے سہولت کے سامان پیدا ہو جاتے اور لوگ آپ کے گرویدہ ہو جاتے۔ایک مرتبہ ایک رئیس زادہ کا علاج کیا تو اس نے اس قدر رو پیہ دیا کہ آپ پر حج فرض ہو گیا۔چنانچہ آپ مکہ اور مدینہ منورہ کی زیارت کے لئے تشریف لے گئے ، حج بھی کیا اور وہاں کئی اکا بر علماء فضلاء سے حدیث پڑھی۔اس وقت آپ کی عمر ۲۴، ۲۵ برس تھی۔بلا د عرب و ہند سے واپس آکر بھیرہ میں تدریس اور مطب کا آغا ز کیا۔مطب کی شان سیتھی کہ مریضوں کے لئے نسخے لکھنے کے دوران احادیث وغیرہ بھی پڑھاتے۔۱۸۷۷ء میں لارڈلٹن وائسرائے ہند کے دربار میں شرکت کی۔کچھ عرصہ بھوپال میں قیام کیا۔پھر ریاست جموں وکشمیر میں ۱۸۷۶ء سے ۱۸۹۲ ء تک شاہی طبیب رہے۔