خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 165
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت گورداسپور کے ایک شخص کے ذریعہ آپ کو حضرت مسیح موعود کا غائبانہ تعارف ہوا اور حضور کا ایک اشتہار بھی نظر سے گزرا۔مارچ ۱۸۸۵ء میں قادیان پہنچ کر حضور سے ملاقات کی۔اس وقت حضور نے نہ کوئی دعوای کیا تھا نہ بیعت لیتے تھے۔تاہم فراست صدیقی سے آپ نے حضور کو شناخت کیا اور حضور کے گرویدہ ہو گئے۔حضور کے ارشاد پر آپ نے پادری تھامسن ہاول کے اعتراضات کے جواب میں کتاب فصل الخطاب اور پنڈت لیکھرام کی کتاب ” تکذیب براہین احمدیہ کے جواب میں تصدیق براہین احمدیہ تصنیف فرما ئیں۔۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء میں جب لدھیانہ میں بیعتِ اولیٰ ہوئی تو سب سے پہلے آپ نے بیعت کا شرف حاصل کیا۔ستمبر ۱۸۹۲ء میں ریاست کشمیر سے آپ کا تعلق منقطع ہو گیا تو بھیرہ میں مطب جاری کرنے کے لئے ایک بڑا مکان تعمیر کرایا۔ابھی وہ مکان مکمل نہیں ہوا تھا کہ حضرت مسیح موعود کے ارشاد کی تعمیل میں قادیان میں دھونی رما کر بیٹھ رہے۔قادیان میں ایک شفا خانہ بنوا کر اس میں مطب شروع کیا۔حضرت مسیح موعود کے ساتھ دربار شام میں نیز سیر وسفر میں ہمرکاب رہتے۔حضور کی مقدس اولاد کو قرآن و حدیث پڑھاتے۔صبح سویرے بیماروں کو دیکھتے پھر طالب علموں کو درس حدیث دیتے اور طب پڑھاتے۔بعد نماز عصر روزانہ درسِ قرآن کریم دیتے۔عورتوں میں بھی درس ہوتا۔مسجد الاقصیٰ میں پنجوقتہ نماز اور جمعہ کی امامت کراتے۔جب قادیان میں کالج قائم ہوا تو اس میں عربی پڑھاتے رہے۔دسمبر ۱۹۰۵ء میں انجمن کار پرداز مصالح قبرستان کے امین مقرر ہوئے۔جب صدر انجمن بنی تو اس کے پریذیڈنٹ مقرر ہوئے۔حضرت مسیح موعود کو حوالہ جات نکالنے میں مدد دیتے ، حضور کی تصانیف کی پروف ریڈنگ کرتے اور مباحثات میں مدد دیتے۔اخبار الحکم اور البدر کی قلمی معاونت فرماتے۔قرآن کریم کا مکمل ترجمہ کیا اور چھپوانے کے لئے مولوی محمد علی صاحب کو دیا لیکن صرف پہلا پارہ چھپ سکا۔خلافت کا دور حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کو جبکہ حاجی الحرمین حضرت مولوی