خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 116 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 116

۱۱۵ وو دنیوی لحاظ سے وہ تلخیاں جو دوستوں نے انفرادی طور پر محسوس کیں وہ ساری تلخیاں میرے سینے میں جمع ہوتی تھیں۔ان دنوں مجھ پر ایسی راتیں بھی آئیں کہ میں خدا کے فضل اور رحم سے ساری ساری رات ایک منٹ سوئے بغیر دوستوں کے لئے دعا کرتا رہا ہوں“۔(جلسہ سالانہ کی دعائیں صفحہ ۹۷) پس دعاؤں کی قبولیت خلافت سے وابستہ ہے۔حضرت خلیفہ مسیح الثانی فرماتے ہیں : تمہارے لئے ایک شخص تمہارا در در کھنے والا ہے اور تمہاری محبت رکھنے والا اور تمہارے دُکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا ، تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا اور تمہارے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا ہے۔۔۔تمہارا اسے فکر ہے، درد ہے اور وہ تمہارے لئے اپنے مولیٰ کے حضور تڑپتا رہتا ہے۔( برکات خلافت - انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۱۵۶) پس خلافت سے دُعا کا دوہرا رشتہ ہے یعنی ایک طرف تو خلیفہ وقت کی دُعائیں مومنوں کے لئے قبول کی جاتی ہیں اور دوسری جانب مومنوں کی دعائیں خلیفہ وقت سے بات تعلق کی بناء پر پایہ قبولیت کو پہنچتی ہیں۔اس حقیقت کو حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے بڑی وضاحت کے ساتھ جماعت کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے پہلے بھی یہی دیکھا تھا اور آئندہ بھی یہی ہوگا کہ اگر کسی احمدی کو منصب خلافت کا احترام نہیں ہے، اس سے سچا پیار نہیں ہے، اس سے عشق اور وارفتگی کا تعلق نہیں ہے اور صرف اپنی ضرورت کے وقت وہ دعا کے لئے حاضر ہوتا ہے تو اس کی دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی۔یعنی خلیفہ وقت کی دعائیں اس کے لئے قبول نہیں کی جائیں گی ، اُسی کے لئے قبول کی جائیں گی جو اخلاص کے ساتھ دُعا کے لئے لکھتا