خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 117 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 117

117 ہے اور اس کا عمل ثابت کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے عہد پر قائم ہے کہ جو نیک کام آپ مجھے فرمائیں گے ان میں میں آپ کی اطاعت کروں گا۔ایسے مطیع بندوں کے لئے تو بعض دفعہ ہم نے یہ نظارے دیکھے، ایک دفعہ نہیں، بسا اوقات یہ نظارے دیکھے کہ وہاں پہنچی بھی نہیں دُعا اور پھر قبول ہوگئی۔ابھی کی جارہی تھی دُعا تو اللہ تعالیٰ اس پر پیار کی نظر ڈال رہا تھا اور وہ دُعا قبول ہورہی تھی۔بعض دفعہ دُعا بنی بھی نہیں تو وہ دُعا قبول ہو جاتی ہے۔اس لئے یہ ایسا ایک بنیادی اصول ہے جس کو ہمیشہ ہر احمدی کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔اگر محمد مصطفی م پر درود نیچے دل اور پیار سے بھیجتا ہے اور وفا کا تعلق رکھتا ہے اپنے محبوب آقا سے تو آنحضرت ﷺ کی ساری دُعائیں ہمیشہ کے لئے ایسے امتیوں کے لئے سنی جائیں گی اور اگر وہ خلافت سے ایسا تعلق رکھتا ہے اور پوری وفاداری کے ساتھ اپنے عہد کو نبھاتا ہے اور اطاعت کی کوشش کرتا ہے تو اس کے لئے بھی دعا ئیں سنی جائیں گی بلکہ آن کہی دُعائیں بھی سنی جائیں گی، اس کے دل کی کیفیت ہی دُعا بن جایا کرے گی۔پس اللہ تعالیٰ جماعت کو حقیقت دُعا کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے“۔(الفضل ۷ ۲ جولائی ۱۹۸۲ء) خلیفہ وقت کی دعائیں کیوں قبولیت کا شرف پاتی ہیں یا خلافت کے ذریعہ مومنوں کی دعائیں کیوں قبول ہوتی ہیں؟ اس کا فلسفہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے یوں بیان فرمایا ہے کہ : اللہ تعالیٰ جب کسی کو منصب خلافت پر سرفراز کرتا ہے تو اس کی دعاؤں کی قبولیت بڑھا دیتا ہے کیونکہ اگر اس کی دُعائیں قبول نہ ہوں تو پھر اس کے اپنے انتخاب کی ہتک ہوتی ہے“۔منصب خلافت۔انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۴۷)