خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 115 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 115

۱۱۴ رہتا ہے اور اندھا مرتا ہے۔۔۔۔و شخص روح کی سچائی سے دُعا کرتا ہے وہ جو جو ممکن نہیں کہ حقیقی طور پر نا مرا درہ سکے۔پھر دوسری جگہ آپ نے دُعا کی تاثیرات بیان کرتے ہوئے فرمایا: یام الصلح روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۳۷) اگر مُردے زندہ ہو سکتے ہیں تو دعاؤں سے۔اگر اسیر رہائی پاسکتے ہیں تو دعاؤں سے اور اگر گندے پاک ہو سکتے ہیں تو دعاؤں سے“۔لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۳۴) دُعا اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک قوت جاذبہ کی حیثیت رکھتی ہے۔اس قوتِ جاذ بہ کا حصول نبوت اور پھر اس کی جانشینی میں خلافت سے وابستگی سے مشروط ہے جس کی طرف آیت کریمہ "وَ ابْتَغُوْا إِلَيْهِ الْوَسِيْلَةُ (المائده: ۱۳) اشارہ کرتی ہے۔جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے قرب کے لئے کوئی وسیلہ ڈھونڈو۔ظاہر ہے کہ نبوت کے بعد حصول قرب خداوندی کے لئے سب سے قومی وسیلہ خلافت راشدہ ہے۔چنانچہ جماعت مومنین شاہد ہے کہ جس نے خلافت کے دامن کو تھام لیا، جو اس کے در کا غلام ہو گیا وہ قُرب خداوندی یا اس کے نشانوں سے نوازا گیا۔خلافت ہی وہ وسیلہ ہے جو نبوت کے ظلق میں براہ راست انوار الہیہ اور تجلیات خداوندی کو منعکس کر کے قلوب مومنین تک پہنچاتا ہے۔خلیفہ وقت ہی ہے جو ہر مومن کے درد کو اپنے دل میں محسوس کر کے اسے دعا کے ذریعہ خدا تک پہنچاتا ہے اور پھر اس کی وہ دعائیں قبولیت کا شرف پاکر مومنوں کے لئے سکینت اور ازدیاد ایمان کا موجب ہوتی ہیں اور ہر مومن " ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ “ (المومن: 1) کا نشان اپنی نظروں سے خلافت حلقہ میں ملاحظہ کرتا ہے۔چنانچہ جب ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء میں جماعت احمدیہ کو مصائب کے طوفان سے گزارا گیا تو یہی دعا ئیں تھیں جو خلیفہ وقت کے دل سے نکل کر عرشِ ربّ العالمین سے جماعت کے لئے سکون وقرار کے نزول کا موجب بنیں اور خلیفہ وقت جماعت کا درد اپنے دل میں محسوس کر کے اسے اپنا در دسمجھ کر خدا کے حضور تڑا پتا تھا جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث فرماتے ہیں: