خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 105
۱۰۴ منصب پر فائز ہوتے گئے۔ان سب کا فرض اولین تجدید دین تھا۔چنانچہ حدیث نبوی مَا كَانَتْ نُّبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَبِعَتُهَا خِلَافَةٌ ( کہ ہر نبوت کے بعد خلافت کا اجراء ہوتا ہے ) کئی رنگوں میں پوری ہوتی رہی۔تجدید کے معنی کسی چیز کو نئے کرنے کے ہیں۔خلافت کی عدم موجودگی میں مجد دین دو طرح سے تجدید دین کرتے تھے۔ایک یہ کہ دین میں اگر کسی جگہ بدعات ورسوم کی وجہ سے بگاڑ پیدا ہوتا تو وہ اس کی تصحیح کر کے دین کو خالص رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔اور دوسرے یہ کہ مومنوں کے ایمان کی تجدید کے سامان کرتے تھے۔یعنی مومنوں کے اعمال کی اصلاح اور ان کے ایمان کی تجدید کا نام مجد دیت ہے۔پس یہ صلحاء مومنوں کے اعمال کی اصلاح اور ایمان کو سلامت رکھنے اور اسے کمزور ہونے یا بگڑنے سے بچانے کا موجب تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : " خلیفہ کے معنے جانشین کے ہیں جو تجدید دین کرے۔نبیوں کے زمانہ کے بعد جو تاریکی پھیل جاتی ہے اس کو دور کرنے کے واسطے جو اُن کی جگہ آتے ہیں انہیں خلیفہ کہا جاتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۴ صفحه ۳۸۳) نبی کی جانشینی میں ایک بلند ترین مقام پر فائز ہونے اور نظام خلافت کے مالک ہونے کی وجہ سے تجدید دین کا فریضہ ادا کرنے والے ان پاک وجودوں میں خلیفہ راشد کا مقام سب سے بلند ہے۔لیکن مسیح موعود جو احادیث میں مہدی اور نبی کے نام سے بھی موسوم کیا گیا وہ مجد داعظم ہونے کی وجہ سے خائم الخلفاء بھی ہے اور اس حدیث مجد د کے انتہائی بلند اور اعلی ترین مقام پر فائز ہونے کے باعث خاتم المجد دین بھی ہے۔جیسا کہ دیو بندی فرقہ کے بانی مولا نا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے نواسے قاری محمد طیب صاحب مہتم دارالعلوم دیو بند آنے والے مسیح کی شان بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: لیکن پھر سوال یہ ہے کہ جب خاتم الد جالین کا اصلی مقابلہ تو خاتم النبیین سے ہے مگر اس مقابلہ کے لئے نہ حضور کا دنیا میں تشریف لانا