خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 106 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 106

۱۰۵ مناسب ، نہ صدیوں باقی رکھا جانا شایانِ شان ، نہ زمانہ نبوی میں مقابلہ ختم قرار دیا جانا مصلحت اور ادھر ختم دجالیت کے استیصال کے لئے چھوٹی موٹی روحانیت تو کیا بڑی سے بڑی ولایت بھی کافی نہ تھی۔عام مجد دین اور ارباب ولایت اپنی پوری روحانی طاقتوں سے بھی اس سے عہدہ برآ نہ ہو سکتے تھے جب تک کہ نبوت کی روحانیت مقابل نہ آئے۔بلکہ محض نبوت کی قوت بھی اس وقت تک موقر نہ تھی جب تک کہ اس کے ساتھ ختم نبوت کا پاور شامل نہ ہو تو پھر شکست دجالتیت کی صورت بجز اس کے اور کیا ہو سکتی تھی کہ اس دقبال اعظم کو نیست و نابود کرنے کے لئے امت میں ایک ایسا خاتم المجد دین آئے جو خاتم النبیین کی غیر معمولی قوت کو اپنے اندر جذب کئے ہوئے ہو اور ساتھ ہی خاتم النبیین سے ایسی مناسبت تامہ رکھتا ہو کہ اس کا مقابلہ بعینہ خاتم النبیین کا مقابلہ ہو۔مگر یہ بھی ظاہر ہے کہ ختم نبوت کی روحانیت کا انجذاب اسی مجد د کا قلب کر سکتا تھا جو خود بھی نبوت آشنا ہو۔محض مرتبہ ولایت میں یہ حمل کہاں کہ وہ درجہ نبوت بھی برداشت کر سکے۔چہ جائیکہ ختم نبوت کا کوئی انعکاس اپنے اندرا تار سکے۔نہیں بلکہ اس انعکاس کے لئے ایک ایسے نبوت آشنا قلب کی ضرورت تھی جو فی الجملہ خاتمیت کی شان بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔تا کہ خاتم مطلق کے کمالات کا عکس اس میں اتر سکے اور ساتھ ہی اس خاتم مطلق کی ختم نبوت میں فرق بھی نہ آئے۔اس کی صورت بجز اس کے اور کیا ہو سکتی تھی کہ انبیائے سابقین میں سے کسی نبی کو جو ایک حد تک خاتمیت کی شان رکھتا ہو اس امت میں مجد د کی حیثیت سے لایا جائے۔جو طاقت تو موت کی لئے ہو مگر اپنی نبوت کا منصب تبلیغ اور مرتبہ تشریح لئے نہ ہو بلکہ ایک امتی کی حیثیت سے اس امت میں کام کرے اور