خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ

by Other Authors

Page 53 of 68

خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 53

۵۳ تو جیسا کہ میں پہلے بھی کہ آیا ہوں کہ مجلس مشاورت ایک مشورہ دینے والا ادارہ ہے۔اس کا کردار پارلیمنٹ کا نہیں ہے جہاں فیصلے کئے جاتے ہیں۔آخری فیصلے کے لئے بہر حال معاملہ خلیفہ وقت کے پاس آتا ہے اور خلیفہ وقت کو ہی اختیار ہے کہ فیصلہ کرے، اور یہ اختیار اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے لیکن بہر حال عموما مشورے مانے بھی جاتے ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا سوائے خاص حالات کے، جن کا علم خلیفہ وقت کو ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ بعض حالات میں بعض وجوہات جن کی وجہ سے وہ مشورہ رد کیا گیا ہو ان کو خلیفہ وقت بتانا نہ چاہتا ہو ایسی بعض مجبوریاں ہوتی ہیں۔تو بہر حال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مشورہ لینے کا فائدہ ہوتا ہے۔کیونکہ مختلف ماحول کے مختلف قوموں کے، مختلف معاشرتی حالات کے لوگ زیادہ اور کم پڑھے لکھے لوگ مشورہ دے رہے ہوتے ہیں پھر آج کل جب جماعت پھیل گئی ہے، مختلف ملکوں کے لحاظ سے ان کے حالات کے مطابق مشورے پہنچ رہے ہوتے ہیں تو خلیفہ وقت کو ان ملکوں میں عمومی حالات اور جماعت کے معیار زندگی اور جماعت کے دینی روحانی معیار اور ان کی سوچوں کے بارے میں علم ہو جاتا ہے ان مشوروں کی وجہ سے۔اور پھر جو بھی سکیم یا لائحہ عمل بنانا ہو اس کو بنانے میں مدد ملتی ہے۔غرض کہ اگر ملکوں کی شوریٰ کے بعض مشورے ان کی اصلی حالت میں نہ بھی مانے جائیں تب بھی خلیفہ وقت کو دیکھنے اور سننے سے بہر حال ان کو فائدہ ہوتا ہے۔مشورہ دینے والے کا بہر حال یہ فرض بنتا ہے کہ نیک نیتی سے مشورہ دے اور خلیفہ وقت کا یہ حق بھی ہے اور فرض بھی ہے کہ وہ جماعت سے مشورہ لے۔خطبات مسرور جلد دوم صفحه 197 تا 199)