خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 52
۵۲ کی رائے مانی تھی ، پھر بعض دفعہ دوسری جنگوں کے معاملات میں صحابہ کے مشورہ کو بہت اہمیت دی جنگ احد میں ہی صحابہ کے مشورے سے آپ وہاں گئے تھے ورنہ آپ پسند نہ کرتے تھے۔آپ کا تو یہ خیال تھا کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے اور جب اس مشورہ کے بعد آپ ہتھیار بند ہوکر نکلے تو صحابہ کو خیال آیا کہ آپ کی مرضی کے خلاف فیصلہ ہوا ہے۔عرض کی یہیں رہ کر مقابلہ کرتے ہیں۔تب آپ نے فرمایا کہ نہیں نبی جب ایک فیصلہ کر لے تو اس سے پھر پیچھے نہیں ہٹتا، اب اللہ تعالیٰ پر توکل کرو اور چلو۔پھر یہ بھی صورت حال ہوئی کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر تمام صحابہ کی متفقہ رائے تھی کہ معاہدہ پر دستخط نہ کئے جائیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کی رائے کے خلاف اس پر دستخط فرما دیئے۔اور پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ نے اس کے کیسے شاندار نتائج پیدا فرمائے۔تو مشورہ لینے کا حکم تو ہے تا کہ معاملہ پوری طرح نتھر کر سامنے آجائے لیکن ضروری نہیں ہے کہ مشورہ مانا بھی جائے تو آپ کی سنت کی پیروی میں ہی ہمارا نظام شوری بھی قائم ہے، خلفاء مشورہ لیتے ہیں تا کہ گہرائی میں جا کر معاملات کو دیکھا جا سکے لیکن ضروری نہیں ہے کہ شوریٰ کے تمام فیصلوں کو قبول بھی کیا جائے اس لئے ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ شوری کی کاروائی کے آخر پر معاملات زیر غور کے بارے میں جب رپورٹ پیش کی جاتی ہے تو اس پر یہ لکھا ہوتا ہے کہ شوریٰ یہ سفارش کرتی ہے، یہ لکھنے کا حق نہیں ہے کہ شوری یہ فیصلہ کرتی ہے۔شوریٰ کو صرف سفارش کا حق ہے۔فیصلہ کرنے کا حق صرف خلیفہ وقت کو ہے۔اس پر کسی کے ذہن میں یہ بھی سوال اٹھ سکتا ہے کہ پھر شوری بلانے کا یا مشورہ لینے کا فائدہ کیا ہے، آج کل کے پڑھے لکھے ذہنوں میں یہ بھی آجاتا ہے