خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ

by Other Authors

Page 51 of 68

خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 51

۵۱ معاملے میں رائے قائم کی ہوگی اور عموما مجلس شوری کی رائے کو اس وجہ سے من و عن قبول کر لیا جاتا ہے، اسی صورت میں قبول کر لیا جاتا ہے۔سوائے بعض ایسے معاملات کے جہاں خلیفہ وقت کو معین علم ہو کہ شوریٰ کا یہ فیصلہ ماننے پر جماعت کو نقصان ہوسکتا ہے اور یہ بات ایسی نہیں ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے یا اس سے ہٹ کر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہوئی ہے۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَشَاوِرُ هُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ علَى اللهِ (سورۃ آل عمران آیت (۱۶۰) یعنی اور ہر اہم معاملے میں ان سے مشورہ کر ( نبی کو یہ حکم ہے ) پس جب کوئی تو فیصلہ کر لے تو پھر اللہ پر توکل کر۔یعنی یہاں یہ تو ہے کہ اہم معاملات میں مشورہ ضروری ہے،ضرور کرنا چاہئے اور اس حکم کے تابع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مشورہ کیا کرتے تھے بلکہ اس حد تک مشورہ کیا کرتے تھے کہ حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو اپنے اصحاب سے مشورہ کرتے نہیں دیکھا۔“ خطبات مسرور جلد دوم صفحه 195 تا 196) یہاں موقعہ کی مناسبت سے یہ بات واضح کرنی ضروری ہے کہ نظام شوری رسول پاک سانی پیلم کی سنت کی پیروی میں ہی قائم ہے جو کہ خلیفہ وقت کوصرف کئی معاملات میں مشورہ دے سکتی ہے جبکہ خلیفہ فیصلہ لینے میں مختار ہے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔تاریخ میں ہے کہ جنگ بدر کے موقعے پر قیدیوں سے سلوک کے بارے میں اکثریت کی رائے رد کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حضرت ابوبکر