خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 6
آنحضرت صلیہ السلام کے بعد نبوت مستقلہ کا دعوی کرے اب صرف کثرت مکالمہ باقی ہے اور وہ بھی اتباع نبوی کے ساتھ ہی مشروط ہے اس کے سوا نہیں۔اور اللہ کی قسم ! مجھے یہ مقام محمد مصطفی صلی ا یتیم کے انوار کی شعاعوں کی پیروی سے ہی ملا ہے اور اللہ تعالیٰ نے میرا نام مجازی طور پر نبی رکھا ہے نہ کہ حقیقی طور پر۔پس یہاں اللہ تعالیٰ کی غیرت یا رسول کریم صلی ایتم کی غیرت کے بھڑکنے کا کوئی مقام نہیں کیونکہ میری تربیت نبی کریم صل اسلام کے پروں کے نیچے ہوئی ہے اور میرا قدم نبی کریم صلی السلام کے نقوش قدم کی متابعت میں ہے اور میں نے کوئی بات اپنے پاس سے نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو میری طرف وحی کی اس کی پیروی کی ہے اور اس کے بعد میں مخلوق کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا۔“ ( ترجمه عربی متن الاستفتاء روحانی خزائن جلد 22،صفحہ 689،688) آپ نے 1889ء میں ایک پاک جماعت کا قیام فرمایا اور اس جماعت کو جماعت احمدیہ مسلمہ کے نام سے موسوم فرمایا۔آپ کی اپنی پوری زندگی اسلام کو دنیا کے گوشہ گوشہ میں غالب کرنے میں مصروف العمل رہی۔آپ کی تحریر فرمودہ 80 سے زائد کتب اس امر کی شاہد ناطق ہیں۔اس طرح اپنوں اور بیگانوں کی گواہیاں موجود ہیں جن سے دُنیا پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ کس طرح آپ نے غلبہ اسلام کی خاطر اپنی پوری زندگی صرف کر دی۔اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق آپ علیہ السلام نے اپنے فرائض منصبی کو بحسن و خوبی ادا کیا اور تادم آخر اسی الہی مشن کے لئے اپنی زندگی کے ہر لمحہ کو وقف رکھا اور اس کے لئے ایک پاک جماعت کا قیام فرمایا۔آپ کی وفات پر دشمن یہ سمجھنے لگا کہ اب آپ کے مقاصد اور جماعت ختم ہو جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ خلافت کا نظام جاری فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ