خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 74
41 کہ ملک عرب کی مضبوطی اور نظام خلافت کی استواری اور اسلام کی شان و شوکت کے لئے قبائل عرب کا ایران و روم سے برسر پیکار ہو جانا ضروری ہے۔(اردو ترجمہ حضرت ابوبکر صدیق صد تاليف عمر ابو النصر ) مصر کے مشہور فاضل اور بالغ نظر عالم ڈاکٹر حسن ابراہیم حسن نے اپنی کتاب التنظیم الاسلامی" میں لکھا ہے کہ آنحضرت کی وفات کے بعد جانشینی کا سوال ایک سیاسی ہنگامہ کی شکل میں اُٹھا جس کی وجہ یہ تھی کہ آنحضرت نے اپنی زندگی ہیں اس کا فیصلہ اس لئے نہیں کیا تھا کہ آپ عربوں کے نظام جمہوری کو بہت پسند کرتے تھے صحابہ اس سے واقف تھے اس لئے آپ کو اعتماد تھا کہ مسلمان جمہوری طریقہ انتخاب سے ایک شخص کو حاکم بنا لیں گے مگر صحابہ میں شدید اختلاف پیدا ہو گیا اور حضرت ابو بکردم، حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ نے اپنی غیر معمولی فراست سے یہ ہنگامہ فرو گیا۔ستید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی پاکستان کے ایک مشہو ر انشاء پرداز مصنف اور ادیب ہیں جو ایک سیاسی جماعت کے بانی ہیں اور جنہوں نے "تحریک خلافت کے دور میں گاندھی جی کی سیرت بھی لکھی ہے (کتاب مولانا مودودی صدا ناشر مکتبہ المجیب اچھرہ ۱۹۵۵ء) آپ نے اس فرانسیسی مستشرق کے نقطۂ نگاہ کو با قاعدہ اسلامی دینیات کا رنگ دے دیا ہے۔چنا نچہ تحریر فرماتے ہیں :۔عرب جہاں مسلم پارٹی پیدا ہوئی تھی سب سے پہلے اُسی کو اسلامی حکومت کے زیر نگیں کیا گیا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم