خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 73
اسلامی دنیا مستشرقین کے طوفان کی زد میں افسوس صد افسوس مستشرقین کے اس حملہ نے جو اٹھارھویں صدی کے قریب شروع ہوا اُن لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کو جو زمانہ نبوی سے ہزار سالہ بعد کے باعث اسلام اور خلافت کی حقیقت سے بالکل بے خبر اور محض نا آشنا ہو چکے تھے اسلام ہی سے باغی کر دیا اور جو خوش نصیب ان کا شکار ہونے سے بچ رہے انہوں نے بھی ہر چیز غیر مسلم مورفین کی عینک سے ہی دیکھی جو کچھ انہوں نے بتا یا قبول کر لیا خصوصا جن مسلمان مفکروں اور ادبیوں کی پوری عمر مغربی ٹریچر کے مطالعہ میں گزری مغربی خیال ایک حد تک ان کی طبیعت ثانیہ بن گیا اور وہ دانستہ یا نادانستہ اسی نقطۂ نگاہ سے حقائق اسلام کا مطالعہ کرنے لگے (مکاتیب اقبال حصہ اول ص مرتبہ شیخ عطاء اللہ ایم۔اے) جن لوگوں کو برا ہ را ست عربی تاریخیں پڑھنے کا موقعہ ملا انہوں نے بھی یورپ کے مستشرقین کی زبردست تنقید (HIGHER CRITICISM ) سے ڈر کر ان بے سروپا اور جعلی روایات کو جن پر انہوں نے اپنی تحقیق کی بنیاد رکھی تھی صحیح اور مقدم سمجھ لیا۔اس المناک حقیقت کی وضاحت کے لئے صرف چند افکار و آراء کی طرف اشارہ کہہ نا کافی ہوگا۔جدید دنیائے عرب کے ایک مشہور مورخ اور ممتاز سیرت نگار عمر ابو النصر نے گستاؤلی بان کے پیش کردہ نظریہ کی تائید میں لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق نے اپنی دور اندیشی اور دورینی سے معلوم کر لیا