خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 12
یعنی صدیقیت پر ممتاز ہوئے اور صدیق کہلائے۔"1 پھر خدائے عزب وقبل نے آپ کو اس وجہ سے بھی ثانی اثنین ہونے کا شرف عطا کیا کہ باری تعالیٰ کے علم میں آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال خلیفہ اول بننے والے تھے اور اپنے عہد خلافت کو کامیابی سے گزارنے کے بعد آنحضرت کے بالکل ساتھ ایک پہلو میں تدفین کی سعادت پانے والے تھے۔اب یکی ثانی اثنین " کے عظیم الشان خطاب کے ان تینوں پہلوؤں پر کچھ مزید عرض کرتا ہوں۔۱- قبول اسلام میں اولیت جب آنحضرت صلی الہ علیہ وسلمنے اعلان نبوت فرمایا تو حضرت ابو را نجات کے لئے شام کی طرف گئے ہوئے تھے۔واپس آئے تو ابھی راستہ میں ہی تھے کہ ایک شخص آپ سے ملا آپ نے اُس سے مکہ کے حالات دریافت فرمائے اور پوچھا کہ کوئی تازہ خبر سناؤ۔اس نے جواب دیا کہ نئی بات یہ ہے کہ تیرہ دوست محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے۔آپ نے یہ سنتے ہی فرمایا کہ اگر آپ نے دعوی کیا ہے تو بلا شبہ آپ سچے ہیں۔پھر مکہ پہنچتے ہی آنحضرت کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔آپ سے کوئی بحث نہیں کی کوئی نشان اور معجزہ نہیں مانگا، صرف اتنا ہی پوچھا کہ کیا آپ نے نبوت کا دعوی کے نام عبد اللہ بن عثمان (مروج الذهب" جلد را ما) :