خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 97
۹۴ بلاشبہ آپ فخر اسلام اور غیر مسکین تھے اور آپ کے فجر جو ہر لطیف کو خیر البریہ و افضل خلائق صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک قریبی رشتہ و تعلق تھا۔۔۔۔اور آپ کتاب نبوت کے نسخہ اجمالی تھے۔(ترجمہ شیر الخلافہ ۳، ص۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی فرمان مبارک ہے:- دعوا أبا بكرِ فَانَّهُ مِنْ تَيَمَّةِ النُّبُوة " ۰۲۵۲ ا تفسیر کبیر رازی جلد ۷ ۲۵ مصری) ابونجہ کی کیا بات !! وہ تو نبوت کا تتمہ ہیں۔حضرت ابو بنجر کی وفات ہوئی تو حضرت علی روتے ہوئے آپ کے مکان کی طرف گئے اور آپ نے آپ کی نعش مبارک کو مخاطب کرتے ہوئے ایک دردناک خطبہ پڑھا جس میں آپ کے مناقب و محاسن کو بڑے موثر پیرا یہ میں بیان کیا۔البزاز مجمع الزوائد الموافقة بين اہل البیت و اصحابه از جار الله زمخشری اور کنز العمال میں اس تاریخی خطبہ کا متن محفوظ ہے۔الضنا مسند اہلبیت ملک ، ملا ، تاریخ اسلام از اکبرشاه خان جلد ۱ ص ۳۲ مطبوعه ۱۳۴۳ هو طبع دوم ) حضرت علی رض فرماتے ہیں :- " وكان افضلهم نعمت في الاسلام وانصحهم الله ولِرَسُولِه الخليفة وخليفة الخليفة ولعمرى ان مكانهما في الاسلام يعظم وان المُصَابَ بهما