خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 624
خلافة على منهاج النبوة ۶۲۴ جلد سوم مسلمانوں کے خلاف معاندانہ عزائم اپنے دلوں میں پوشیدہ رکھتا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ اگر موقع ملے تو مسلمانوں کو نیست و نابود کر دیا جائے۔اس فتنہ کے ازالہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ تدبیر کی کہ ایک طرف معاویہ کو دمشق میں بٹھا دیا اور دوسری طرف حضرت علی کو عراق میں بٹھا دیا۔اسلام کو ایک طرف رومی حکومت سے خطرہ ہوسکتا تھا اور اگر اُس وقت رومی حکومت حملہ کرتی تو مسلمانوں کا زندہ رہنا محال ہو جاتا۔مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا فرما دیے کہ جس علاقہ سے گزر کر رومی حکومت آسکتی تھی اس کے دروازے پر حضرت معاویہ اسلامی فوجوں کو جمع کر رہے تھے۔دوسری طرف ایران سے حملہ کا خطرہ ہوسکتا تھا سو اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دئیے کہ حضرت علیؓ نے عراق میں ڈیرے ڈال دیئے۔بظا ہر وہ آپس میں لڑ رہے تھے ، بظا ہر حضرت معاویہ حضرت علیؓ کے خلاف اور حضرت علی حضرت معاویہؓ کے خلاف اپنی فوجیں جمع کر رہے تھے مگر در حقیقت وہ دونوں اسلام کی حفاظت کر رہے تھے۔معاویہ کی تیاریوں کو دیکھ کر رومی حکومت اسلام پر حملہ کرنے سے ہچکچاتی تھی اور حضرت علی کی تیاریوں کو دیکھ کر ایرانی حکومت مسلمانوں کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کی جرات نہیں کر سکتی تھی۔چنانچہ تاریخ میں اس کا ایک ثبوت بھی موجود ہے لکھا ہے کہ جب مسلمانوں کی آپس کی خانہ جنگی بڑھتی چلی گئی تو روما کے بادشاہ کو کسی نے کہا کہ یہ وقت مسلمانوں پر حملہ کرنے کیلئے نہایت موزوں ہے وہ آپس میں لڑ رہے ہیں بہتر ہے کہ ان پر فوج کشی کر دی جائے۔جب پوپ کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے بادشاہ کو روکا اور کہا اس قوم میں بیداری پیدا ہو چکی ہے اب اس کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔پھر اس نے ایک مثال دی اور چونکہ وہ دشمن تھا اس نے گندی ہی مثال دی۔اس نے کہا بادشاہ سلامت ! دو کتے لائیے اور ان کے آگے گوشت ڈال دیجئے۔جب گوشت ڈالا گیا تو دونوں کتے آپس میں لڑنے لگ گئے۔اس پر پوپ نے کہا اب ان پر ایک شیر چھوڑ دیجئے۔شیر چھوڑا گیا تو دونوں کتے اپنی لڑائی چھوڑ کر شیر پر حملہ آور ہو گئے۔پوپ نے کہا بس اسی طرح جب آپ نے حملہ کیا ان دونوں نے اکٹھے ہو کر آپ پر حملہ کر دینا ہے۔چنانچہ بادشاہ نے مسلمانوں پر حملہ کا ارادہ