خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 625 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 625

خلافة على منهاج النبوة ۶۲۵ جلد سوم ترک کر دیا۔یہ بات انہی دنوں اُڑتی اُڑتی حضرت معاویہؓ کے کان تک بھی پہنچ گئی کہ روما کا بادشاہ مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔حضرت معاویہؓ نے بادشاہ کو پیغام بھجوایا کہ ہمارے گھر کے جھگڑوں سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جانا اگر تم نے حملہ کیا تو پہلا جرنیل جو علی کی طرف سے مقابلہ کے لئے نکلے گا وہ میں ہوں گا۔پس اگر شام اور عراق میں یہ میدان جنگ نہ ہوتے تو چونکہ اُس وقت مسلمانوں کی ابتدائی حالت تھی دشمن ان پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوسکتا تھا۔مگر خد اتعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ ایک دشمن کے منہ کے سامنے مسلمانوں کا ایک کیمپ لگ گیا اور دوسرے دشمن کے سامنے مسلمانوں کا دوسرا کیمپ لگ گیا۔اس طرح وہ زمانہ گزر گیا اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے رومی اور ایرانی حکومتوں کے حملوں سے محفوظ کر دیا۔پس یہ ایک الہی تدبیر تھی جو اس تمام کارروائی کے پس پردہ کام کر رہی تھی۔اگر حضرت علیؓ مدینہ میں ہی رہتے تو ایران ضرور حملہ کر دیتا کیونکہ ایران کا دروازہ خالی پڑا تھا۔اور اگر معاویہ دمشق کی بجائے یمن میں ہوتے تو رومی حکومت ضرور حملہ کر دیتی کیونکہ رومی حکومت کا دروازہ خالی پڑا تھا۔پس اللہ تعالیٰ نے ایسی تدبیر کی کہ وہ بظا ہر آپس میں لڑنے کی تیاری کرتے رہے مگر در حقیقت اس میں بھی اسلام کی حفاظت کا بہت بڑا راز پنہاں تھا اور اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ تم بے شک لڑو ہمارا اسلام پھر بھی قائم رہے گا پھر بھی وہ دشمن کے حملوں سے محفوظ رہے گا۔اس طرح اس فتنہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کا سامان پیدا فرمایا۔“ القصص : ٨٦ 66 البداية والنهاية جلد ۸ صفحه ۱۲۶ مطبوعہ بیروت ۲۰۰۱ء ( الفضل ۲۳ ۲۴ جون ۱۹۶۱ء)