خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 623
خلافة على منهاج النبوة ۶۲۳ جلد سوم 66 رپورٹیں پہنچنی شروع ہوئیں اور اُدھر رومیوں کو مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کا احساس ہونے لگا اور انہوں نے سمجھا کہ گر به کشتن روز اوّل کے مطابق ہمیں آج ہی مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے معدوم کر دینا چاہیئے ایسا نہ ہو کہ وہ بڑھیں اور ہمارے لئے کسی مستقل خطرہ کا باعث بن جائیں۔چنانچہ ایرانی حکومت نے تو اپنے دو آدمی اس غرض کے لئے بھیجے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر لے آئیں اور رومی حکومت نے سرحد پر لشکر بھیج دیا تا کہ مسلمانوں کو ڈرا دھمکا کر ختم کیا جا سکے۔خدا تعالیٰ کے سامنے تو رومی اور ایرانی لشکروں کی حقیقت ہی کیا تھی یہ تو ایسی ہی بات تھی جیسے بچے بعض دفعہ ماں باپ کے سامنے ان کو ڈرانے کے لئے ہو ہو کرنا شروع کر دیتے ہیں۔مگر بہر حال قیصر کسری سے زیادہ عقل مند تھا کسری تو اتنا احمق نکلا کہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے صرف دو سپاہی بھیج دیئے اور سمجھا کہ اسلام کو مٹانے کے لئے اس کے صرف دو سپاہی ہی کافی ہیں۔بہر حال یہ ایک ذریعہ بن گیا خدائی حکم کو قبول کرتے ہوئے دشمن سے لڑنے کا ور نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حملہ نہیں کرنا تھا اور دشمن اُس وقت تک حملہ نہیں کرسکتا تھا جب تک اُسے انگیخت نہ ہوتی۔مگر جب مدینہ میں ان کی آنکھوں کے سامنے مسلمانوں نے ترقی کرنی شروع کی تو حکومتوں کو فکر پیدا ہوا اور وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں نکل کھڑی ہوئیں۔اس طرح اسلام اور کفر کی کھلم کھلا جنگ ہوئی اور تھوڑے ہی عرصہ میں مسلمان معلومہ دنیا کے کناروں تک پہنچ گئے۔پس ہجرت میں بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ مدینہ سے چند آدمی گئے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے مدینہ لے آئے۔مگر در حقیقت یہ ایک الہی تدبیر تھی اور اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ مسلمانوں کو مکہ سے دور لے جا کر ایران اور روم کے سامنے کھڑا کر دے اور اس طرح وہ آپ سے نپٹ لیں۔اس طرح چاہے حضرت علیؓ کے ذہن میں یہ الہی تدبیر آئی ہو یا نہ آئی ہو مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت علیؓ کے عراق جانے میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت تھی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت قیصر و کسریٰ کی حکومتیں تباہ ہو چکی تھیں مگر وہ گلی طور پر مٹی نہیں تھیں بلکہ ایک طرف ایرانی حکومت کا بقیہ اور دوسری طرف رومی حکومت کا بقیہ