خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 618 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 618

خلافة على منهاج النبوة ۶۱۸ جلد سوم۔سے کوئی دلی رغبت نہ تھی۔جب اسلام مختلف ممالک میں پھیلا تو وہ بھی مسلمان ہو گیا مگر اندرونی طور پر نظام خلافت کے خلاف جدو جہد شروع کر دی اور ایسے اعتقادات بھی پھیلا نے شروع کر دیئے جو اسلام کے خلاف تھے۔مثلاً اس نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔دراصل وہ تناسخ کا قائل تھا مگر آدمی بڑا ذہین اور ہوشیار تھا۔اگر وہ یوں کہتا کہ تناسخ درست ہے تو لوگ جوش میں آجاتے مگر اس نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح دوبارہ دنیا میں آئے گی۔اب کون ایسا انسان ہے جو اس کی مخالفت کر سکے۔ہر شخص کہے گا کہ کاش ایسا ہی ہو اور ہم پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں دیکھ سکیں۔اس نے چالا کی یہ کی کہ قرآن کریم کی وہ پیشگوئیاں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ میں دوبارہ آنے کے متعلق تھیں یا وہ پیشگوئیاں جو آپ کی بعثت ثانیہ سے تعلق رکھتی تھیں جیسے سورۃ جمعہ میں پیشگوئی ہے ان میں استدلال کر کے وہ اپنے عقیدے کو تقویت دیتا اور کہتا کہ ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوبارہ آنے کا ذکر ہے۔لوگ محبت رسول کی وجہ سے اس کی ان باتوں سے خوش ہو جاتے اور وہ حقیقت کی تہ تک پہنچنے کی کوشش نہ کرتے۔اسی طرح قرآن کریم کی یہ آیت کہ اِنّ الّذي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآن ترادك إلى معاد اس سے وہ یہ استدلال کرتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔حالانکہ اس میں فتح مکہ کی پیش گوئی تھی اور مکہ ہی معاد تھا کیونکہ وہ عربوں کا مرجع تھا اور ہمیشہ حج کے لئے لوگ مکہ میں آتے جاتے تھے۔بہر حال وہ لوگ جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی مگر انہوں نے آپ کو دیکھا نہ تھا وہ ان باتوں سے خوش ہوتے اور کہتے کہ اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لاویں۔غرض عبد اللہ بن سبا اپنے اندر ایک بہت بڑے فتنہ کی روح رکھتا تھا اور اس نے لوگوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسانے کے لئے اِدھر اُدھر آدمی بھیجے تو عراق کے لوگوں میں اس نے بے چینی اور اضطراب محسوس کیا اور اس نے سمجھا کہ اگر میرے مفید مطلب کوئی لوگ : ہو