خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 617
خلافة على منهاج النبوة ۶۱۷ جلد سوم حضرت علی رضی اللہ عنہ مدینہ چھوڑ کر عراق کیوں تشریف لے گئے تھے؟ فرموده ۱۷ فروری ۱۹۴۷ء بمقام قادیان ) چند دن ہوئے کچھ آدمی لاہور سے آئے ہوئے تھے انہوں نے مجھ سے بعض سوالات کئے جن میں سے ایک سوال یہ تھا کہ حضرت علی مدینہ چھوڑ کر عراق کی طرف کیوں چلے گئے تھے؟ یہ ایک ایسا تاریخی سوال ہے جس کے متعلق ہمیشہ ہی مختلف آراء رہی ہیں اور لوگوں کے دلوں میں بار بار یہ سوال پیدا ہوتا رہا ہے کہ آخر وجہ کیا ہے کہ آپ عراق تشریف لے گئے جبکہ مدینہ اسلام کا مرکز تھا۔بعض لوگوں نے اپنی نادانی سے یہ خیال کیا ہے کہ انہوں نے مدینہ کو اس لئے چھوڑا کہ آپ ڈرتے تھے کہ مدینہ کے لوگ میری زیادہ مخالفت کریں گے اور چونکہ عراق کے لوگوں سے آپ کو زیادہ ہمدردی کی امید تھی اس لئے آپ وہاں چلے گئے۔قطع نظر اس سے کہ عراق کے لوگوں کو آپ سے ہمدردی تھی مدینہ کے لوگوں کی مخالفت کا خیال بالبداہت باطل ہے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ انصار کو حضرت علی سے بالخصوص محبت تھی اور مدینہ در حقیقت انصار کا ہی شہر تھا اس لئے یہ خیال بالکل غلط ہے۔باقی رہی عراق والوں کی ہمدردی سو یہ بھی درست ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ حضرت عثمان کے قاتل تھے وہ یا تو مصر کے رہنے والے تھے یا عراق کے رہنے والے۔مصر میں عبداللہ بن سبا ان کا سردار تھا اور وہی اس فتنہ کا بانی مبانی تھا۔در حقیقت وہ مصری فلسفہ کا معتقد تھا اور اسے اسلام