خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 619 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 619

خلافة على منهاج النبوة ۶۱۹ جلد سوم وو 9966 سکتے ہیں تو وہ عراق کے لوگ ہی ہیں۔در حقیقت عراق کے لوگوں میں بے چینی اور اضطراب کی وجہ یہ تھی کہ ایرانیوں سے جنگ کرنے کے بعد جب عرب افواج واپس لوٹیں تو انہیں عرب میں واپس جانا پسند نہ آیا کیونکہ وہ دنیا کے دوسرے ممالک میں رہ کر ترفہ اور خوشحالی کی زندگی بسر کرنے کی عادی ہو چکی تھیں۔گویا ان کی مثال بالکل ویسی ہی تھی جیسے پرانے زمانہ میں جب کوئی یورپ جاتا تو اس کی حالت ہو جاتی۔اب تو یورپ میں آنا جانا ایک روز مرہ کی بات ہوگئی ہے اور اس میں کوئی عجوبہ نظر نہیں آتا لیکن پرانے زمانہ میں جب کوئی بیرسٹر یورپ سے واپس آیا کرتا تھا تو وہ یہ نہیں کہتا تھا کہ ہم یوں کریں گے بلکہ جب اسے ہندوستانیوں سے گفتگو کرنے کا موقع ملتا تو وہ اس انداز میں کلام کیا کرتا کہ ” ہم لوگ یوں بولتا ، تم لوگ یوں کہتا “ اور بعض کے متعلق تو یہاں تک لطیفہ بن جاتا کہ خواہ ان کا اپنا رنگ کتنا ہی کالا ہوتا وہ دوسروں کو اپنی انگریزیت جتانے کے لئے یہ کہتے کہ تم کالا لوگ یوں ہوتا ہے۔اسی طرح اہل عرب کی زندگی بالکل سادہ تھی ان کا کھانا پینا اور پہنا بالکل سادہ تھا۔جب قیصر و کسریٰ کی حکومتوں پر وہ حملہ کرنے کے لئے گئے تو صحابہ نے تو ان سے کوئی خاص اثر قبول نہ کیا کیونکہ وہ خود بھی متمدن زندگی بسر کرتے تھے۔مگر بدوی لوگ جب ادھر انکا اور ادھر ایران کی سرحدوں پر پہنچے اور ان گوہ کھانے والوں اور اونٹنی کا دودھ پی پی کر گزارہ کرنے والوں نے دیکھا کہ دنیا میں بڑے بڑے محلات ہیں، کمروں میں قالینیں بچھی ہوئی ہیں ، آفتابوں میں ہاتھ دھلائے جاتے ہیں ، دستر خوانوں پر کھانے کھلائے جاتے ہیں تو انہیں واپس جانا سخت گراں گزرا اور انہوں نے سمجھا کہ ایسی اعلیٰ زندگی ترک کر کے ہمارے لئے پھر وہی غیرمتمدن زندگی بسر کرنا بالکل ناممکن ہے۔چنانچہ ایرانی فوجیں جب فتوحات حاصل کر نے کے بعد واپس لوٹیں تو وہ عرب میں نہیں آئیں بلکہ عراق میں پھیل گئیں کیونکہ اب متمدن زندگی کا نقشہ ان کے سامنے تھا اور وہ شہری زندگی سے متمتع ہونا زیادہ پسند کرتے تھے۔دوسری طرف رومی حکومت کو شکست دینے والی فو جیں جب واپس لوٹیں تو وہ بھی عرب کی بجائے فلسطین اور شام وغیرہ علاقوں میں پھیل گئیں کیونکہ فلسطین اور شام کے علاقے