خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 565

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم کر کہہ دیا ” تو را شنان سومور اشنان۔پوچھنے والے نے کہا پھر میں تم کو مخاطب کر کے کہہ دیتا ہوں کہ ” تو راشنان سوموراشنان “۔اور یہ کہہ کر وہ بھی گھر لوٹ گیا۔اسی طرح ایک کلرک جب دیکھتا ہے کہ خلیفہ کا ایک حکم لکھا ہوا موجود ہے مگر بجائے اس کے متعلق فیصلہ کرانے کے خود ہی ناظر کہہ دیتا ہے کہ اس پر عمل نہیں ہو سکتا تو وہ ناظر کے حکم پر کہتا ہے کہ اس پر عمل نہیں ہوسکتا۔پھر جب وہ کوئی حکم دیتا ہے تو چپڑاسی کہہ دیتا ہے کہ اس پر عمل نہیں ہوسکتا۔اس طرح توجیہہ کا دروازہ وسیع ہوتا جاتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ سب سے اول قیاس ابلیس نے کیا اور وہ تباہ ہو گیا۔پس یا تو جو قانون بن چکا ہوا سے بدلوانا چاہئے یا پھر عمل کرتے ہوئے مرنا بھی پڑے تو مر جانا چاہئے“۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء صفحه ۱۴۳ تا ۱۴۷)