خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 564
خلافة على منهاج النبوة ۵۶۴ جلد سوم ہوسکتا تھا اتنا کرالیا گیا۔۱۴ محصلین سے چار سو جماعتوں کے بجٹ کی تشخیص کرا نا ممکن نہ تھا۔اگر یوں کہا جاتا تو یہ معقول بات ہوتی لیکن اس کی بجائے یہ کہا گیا ہے کہ ۱۴ محصلین سے فلاں فلاں کام کرایا گیا اس لئے بجٹ کی تشخیص نہیں کر سکے۔یہ صریح قانون شکنی ہے۔ان کا اصل کام بجٹ تیار کرانا ہے نہ کہ دوسرے کام کرانا۔اس کا جواب اظہار ندامت تھا۔میں اس وقت پھر اعلان کرتا ہوں کہ محصلین کے متعلق میرا وہ فیصلہ لفظاً لفظا اب بھی قائم ہے اور اُس کی تعمیل کرنا ناظر پر فرض ہے۔اگر وہ میرے فیصلہ کی تعمیل کرتے تو درست ہوتا۔ورنہ خواہ وہ مریخ اور زہرا کے ٹکڑے لے آئیں اور خزانے میں داخل کر دیں مگر حکم کی تعمیل نہ کریں تو وہ نا فرمان سمجھے جائیں گے۔کہا گیا ہے کہ ان جماعتوں کے نام شائع کئے گئے جنہوں نے فارم بھیجے مگر پھر بھی تعمیل نہ کی گئی۔اس کا جواب وہ یہ دے سکتے ہیں کہ تم نے خلیفہ کا حکم نہ مانا ہم پر تمہارے حکم کا کیا اثر ہو سکتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک ناظر اپنے رویہ کو نہ بدلیں گے ان کی باتوں کا بھی کوئی اثر نہ ہوگا۔ایک دفعہ کسی بزرگ کا گھوڑا چلنے سے اڑا۔انہوں نے فرمایا میں نے ضرور خدا تعالیٰ کے کسی حکم کی نافرمانی کی ہوگی جس پر گھوڑے نے میری نافرمانی کی۔جانے دو نیکی اور ایمان کو مگر کیا یہ درست نہیں کہ جو ماں باپ بچوں کے سامنے لڑتے ہیں بچے ان سے لڑتے ہیں۔خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ بدلتا ہے۔جو لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ فلاں نے قانون شکنی کی اور اُسے بُرا نہیں سمجھا گیا تو وہ بھی اس طریق کو اختیار کر کے نظام کو درہم برہم کر دیتے ہیں۔اس وجہ سے قانون شکنی کی روح کو ہی کچل دینا چاہئے۔قانون شکنی خواہ ناظر کرے یا کوئی اور وہ برداشت نہیں کی جاسکتی۔جب ناظر خلیفہ کے کسی فیصلہ کی خلاف ورزی کرتا ہے تو کیا کلرک نہیں دیکھتے کہ یہ فیصلہ لکھا ہے مگر ناظر اس پر عمل نہیں کرتے۔پھر اسی طرح کلرک ناظر کے حکم کے متعلق کرتے ہیں اور وہی بات ہو جاتی ہے جو کسی برہمن کے متعلق بیان کی جاتی ہے۔کہا جاتا ہے ایک برہمن دریا کی طرف سے آرہا تھا۔سردی کا موسم تھا اور غسل کرنا مشکل تھا۔ایک دوسرے برہمن نے پوچھا غسل کر آئے ؟ اُس نے کہا میں نے دریا میں ایک کنکر پھینک