خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 447
خلافة على منهاج النبوة ۴۴۷ جلد سوم کہ وہ بندوں سے ڈر کر کسی مقام سے اپنا قدم پیچھے نہیں ہٹا ئیں گے بلکہ جو کچھ کریں گے خدا تعالیٰ کے منشاء اور اس کی رضا کو پورا کرنے کے لئے کریں گے اور اس امر کی ذرا بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ اس راہ میں انہیں کن بلاؤں اور آفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دنیا میں بڑے سے بڑا دلیر آدمی بھی بعض دفعہ لوگوں کے ڈر سے ایسا پہلو اختیار کر لیتا ہے جس سے گو یہ مقصود نہیں ہوتا کہ وہ سچائی کو چھوڑ دے مگر دل میں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ میں ایسے رنگ میں کام کروں کہ کسی کو شکوہ پیدا نہ ہو۔مولوی غلام علی صاحب ایک کٹر وہابی ہوا کرتے تھے وہابیوں کا یہ فتویٰ تھا کہ ہندوستان میں جمعہ کی نماز ہوسکتی ہے لیکن حنفیوں کے نزدیک ہندوستان میں جمعہ کی نماز جائز نہیں تھی کیونکہ وہ کہتے تھے کہ جمعہ پڑھنا تب جائز ہو سکتا ہے جب مسلمان سلطان ہو۔جمعہ پڑھانے والا مسلمان قاضی ہو اور جہاں جمعہ پڑھا جائے وہ شہر ہو۔ہندوستان میں انگریزی حکومت کی وجہ سے چونکہ نہ مسلمان سلطان رہا تھا نہ قاضی اس لئے وہ جمعہ کی نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔ادھر چونکہ قرآن کریم میں وہ یہ لکھا ہوا پاتے تھے کہ جب تمہیں جمعہ کے لئے بلایا جائے تو فوراً تمام کام چھوڑتے ہوئے جمعہ کی نماز کے لئے چل پڑو اس لئے ان کے دلوں کو اطمینان نہ تھا۔ایک طرف ان کا جی چاہتا تھا کہ وہ جمعہ پڑھیں اور دوسری طرف وہ ڈرتے تھے کہ کوئی حنفی مولوی ہمارے خلاف فتویٰ نہ دے دے۔اس مشکل کی وجہ سے ان کا یہ دستور تھا کہ جمعہ کے روز گاؤں میں پہلے جمعہ پڑھتے اور پھر ظہر کی نماز ادا کر لیتے اور وہ خیال کرتے کہ اگر جمعہ والا مسئلہ درست ہے تب بھی ہم بچ گئے اگر ظہر پڑھنے والا مسئلہ صحیح ہے تب بھی ہم بچ گئے۔اسی لئے وہ ظہر کا نام ظہر کی بجائے احتیاطی رکھا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ خدا نے اگر ہمارے جمعہ کی نماز کو الگ پھینک دیا تو ہم ظہر کو اُٹھا کر اُس کے سامنے رکھ دیں گے اور اگر اس نے ظہر کو رد کر دیا تو ہم جمعہ اس کے سامنے پیش کر دیں گے۔اور اگر کوئی احتیاطی“ نہ پڑھتا تو سمجھا جاتا کہ وہ وہابی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ہم مولوی غلام علی صاحب کے ساتھ گورداسپور گئے راستہ میں جمعہ کا وقت آ گیا ہم نماز پڑھنے کے لئے ایک مسجد میں چلے گئے۔آپ کا عام طریق وہابیوں سے ملتا جلتا