خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 446
خلافة على منهاج النبوة ۴۴۶ جلد سوم کے دل کو اس نے اس طرف مائل کر دیا کہ مردوں کے سونا نہ پہننے میں جو حکمتیں ہیں وہ بھی بے شک اچھی ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کرنے کیلئے کسی کو تھوڑی دیر کے لئے سونے کے کڑے پہنا دینا بھی کوئی بُری بات نہیں ہو سکتی چنانچہ انہوں نے صحابی کو اپنے سامنے سونے کے کڑے پہنائے۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ خلفائے راشدین فوت ہو گئے تو ان کی وفات کے سالہا سال بعد خدا تعالیٰ نے ان کے خوف کو امن سے بدلا۔کبھی سو سال بعد کبھی دوسو سال بعد، کبھی تین سو سال بعد، کبھی چار سو سال کے بعد اور کبھی پانچ سو سال کے بعد اور اس طرح ظاہر کر دیا کہ خدا تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ ان کے ارادے رائیگاں جائیں۔لیکن اگر اس ساری آیت کو ساری قوم کی طرف منسوب کر دیا جائے تب بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ اس صورت میں بھی وہی معنی کئے جائیں جن کو میں نے بیان کیا ہے یعنی اس صورت میں بھی ساری قوم کو اگر کوئی خوف ہو سکتا تھا تو وہ کفار کے اسلام پر غلبہ کا ہو سکتا تھا۔فردی طور پر تو کسی کو یہ خوف ہو سکتا ہے کہ میرا بیٹا نہ مرجائے ، کسی کو یہ خوف ہوسکتا ہے کہ مجھے تجارت میں نقصان نہ ہو جائے مگر قوم کا خوف تو ایسا ہی ہو سکتا ہے جو اپنے اندر قومی رنگ رکھتا ہو اور وہ خوف بھی پھر یہی ماننا پڑتا ہے کہ ایسا نہ ہوا سلام پر کفار غالب آجائیں۔سو قوم کا یہ خوف بھی اسلام کے ذریعہ ہی دور ہوا اور اسلام کو ایسا زبر دست غلبہ حاصل ہوا جس کی اور کہیں مثال نہیں ملتی۔خلفاء کی چھٹی علامت اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وہ خلفاء میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے یعنی ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ جرات اور دلیری پیدا کر دے گا اور خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی کا خوف ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوگا۔وہ لوگوں کے ڈر سے کوئی کام نہیں کریں گے بلکہ اللہ پر تو کل رکھیں گے اور اسی کی خوشنودی اور رضا کیلئے تمام کام کریں گے۔یہ معنی نہیں کہ وہ بت پرستی نہیں کریں گے بت پرستی تو عام مسلمان بھی نہیں کرتے کجا یہ کہ خلفاء کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ بت پرستی نہیں کریں گے۔پس یہاں بت پرستی کا ذکر نہیں بلکہ اس امر کا ذکر ہے