خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 448
خلافة على منهاج النبوة ۴۴۸ جلد سوم تھا کیونکہ وہابی حدیثوں کے مطابق عمل کرنا اپنے لئے ضروری جانتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا ہی انسان کی نجات کے لئے ضروری ہے۔غرض آپ بھی مولوی غلام علی صاحب کے ساتھ گئے اور جمعہ کی نماز پڑھی۔جب مولوی غلام علی صاحب جمعہ کی نماز سے فارغ ہو گئے تو انہوں نے چار رکعت ظہر کی نماز پڑھ لی۔آپ فرماتے تھے کہ میں نے ان سے کہا کہ مولوی صاحب ! یہ جمعہ کی نماز کے بعد یہ چار رکعتیں کیسی ہیں؟ وہ کہنے لگے یہ احتیاطی ہے۔میں نے کہا مولوی صاحب ! آپ تو وہابی ہیں اور عقیدتاً اس کے مخالف ہیں پھر ” احتیاطی کے کیا معنی ہوئے؟ وہ کہنے لگے احتیاطی ان معنوں میں نہیں کہ خدا کے سامنے ہما را جمعہ قبول ہوتا ہے یا ظہر بلکہ یہ ان معنوں میں ہے کہ لوگ مخالفت نہ کریں۔تو کئی لوگ اس طرح بھی کام کر لیتے ہیں جیسے مولوی غلام علی صاحب نے کیا کہ اپنے دل میں تو وہ اس بات پر خوش رہے کہ اُنہوں نے جمعہ پڑھا ہے اور ادھر لوگوں کو خوش کرنے کے لئے چار رکعت ظہر کی نماز بھی پڑھ لی۔اسی طرح ایک لطیفہ مشہور ہے کہتے ہیں کہ کوئی سنی بزرگ تھے جو شیعوں کے علاقہ میں رہتے تھے۔ایک دفعہ غربت کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہو گئے اور اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ بادشاہ کے پاس پہنچ کر مدد کی درخواست کرنی چاہئے۔چنانچہ وہ اس کے پاس گئے اور مدد کی درخواست کی۔وزیر نے ان کی شکل دیکھ کر بادشاہ کو کہا کہ یہ شخص شیعہ نہیں سنی معلوم ہوتا ہے۔بادشاہ نے کہا کہ تمہیں کس طرح معلوم ہوا ؟ وہ کہنے لگا بس شکل سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔بادشاہ کہنے لگا یہ کوئی دلیل نہیں تم میرے سامنے اس کا امتحان لو۔چنانچہ وزیر نے ان کے سامنے حضرت علی کی بڑے زور سے تعریف شروع کر دی۔وہ بزرگ بھی حضرت علیؓ کی تعریف کرنے لگ گئے۔بادشاہ نے یہ دیکھ کر کہا دیکھا ! تم جو کچھ کہتے تھے وہ غلط ثابت ہوا یا نہیں ؟ اگر یہ شیعہ نہ ہوتا تو کیا حضرت علیؓ کی ایسی ہی تعریف کرتا ؟ وزیر کہنے لگا بادشاہ سلامت ! آپ خواہ کچھ بھی کہیں مجھے یہ سنی ہی معلوم ہوتا ہے۔بادشاہ نے کہا اچھا امتحان کے لئے پھر کوئی اور بات کرو۔چنانچہ وزیر کہنے لگا کہو " بر ہر سہ لعنت“ یعنی ابو بکر، عمر اور عثمان پر نَعُوذُبِ اللهِ ) لعنت۔وہ بھی کہنے لگا ”بر ہر سہ لعنت۔بادشاہ نے کہا اب تو یہ یقینی طور