خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 27

خلافة على منهاج النبوة ۲۷ جلد سوم حقیقی اطاعت ۲۹ مارچ ۱۹۳۱ء کو ایک نکاح کا اعلان کرتے ہوئے یہ مضمون بیان فرمایا کہ اگر میاں بیوی محض اللہ کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے معاملہ کریں تو ان کے لئے رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور پھر ا براہیم کی اطاعت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔دو حقیقی اطاعت عبودیت تامہ کسی ایسی ذات کی نہیں ہوسکتی جو صحیح احکام نہ دے سکے۔سوحقیقی اطاعت اسی کیلئے ہے جس کیلئے حقیقی حمد ہے اور وہ خدا تعالیٰ ہی ہے۔پھر ظل کے طور پر جو اس کے مظہر ہوتے ہیں جیسے انبیاء اور خلفاء وغیرہ ان کی اطاعت کرنا بھی ضروری ہے۔چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ل جو خدا اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ کامیاب ہو جائے گا۔تو حمد کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے عبودیت کو رکھا اور اطاعت کے جواب میں فوز فرمایا۔جس کا مطلب یہی ہے کہ اطاعت سے فوز اور حمد سے اطاعت پیدا ہوتی ہے۔کامل حمد سے کامل اطاعت پیدا ہوگی اور کامل اطاعت کے بدلے فیضانِ الہی نازل ہوں گے۔اس پر انسان اور حمد کرے گا اور خدا کے فضل زیادہ 66 سے زیادہ نازل ہوتے رہیں گے۔“۔الاحزاب : ۷۲ ( الفضل ۷ پریل ۱۹۳۱ء )