خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 28
خلافة على منهاج النبوة ۲۸ جلد سوم خلیفہ وقت کی مجلس میں بیٹھنے والوں کیلئے چند ضروری آداب (فرموده ۲۱ را پریل ۱۹۳۳ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔چونکہ ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے روز بروز بڑھ رہی ہے اور نئے اور پرانے ہر قسم کے دوست قادیان میں آتے رہتے ہیں ، یہاں کے باشندوں کی تعداد بھی اب اتنی ہو چکی ہے کہ وہ اس بات کے محتاج ہیں کہ وقتا فوقتا ان کی تربیت کا خیال رکھا جائے۔کیونکہ انہیں دینی کتب کے پڑھنے ، دینی باتیں سننے اور دینی تربیت حاصل کرنے کا بوجہ کثرت آبادی اتنا موقع نہیں ملتا جتنا پہلے ملا کرتا تھا ، اس لئے آج کا خطبہ میں اس امر کے متعلق پڑھنا چاہتا ہوں کہ جو دوست اس مجلس میں شامل ہوتے ہیں جس میں میں موجود ہوتا ہوں ، ان کو کیا طریق عمل اختیار کرنا چاہیے۔پہلی بات جو ہمارے دوستوں کو مد نظر رکھنی چاہئے یہ ہے کہ مجھ سے ملنے والے نہ صرف احمدی ہوتے ہیں بلکہ غیر احمدی ، ہندو ،سکھ اور عیسائی ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔پھر احمد یوں میں سے نئے بھی ہوتے ہیں اور پرانے بھی۔سمجھدار طبقہ کے بھی ہوتے ہیں اور کم سمجھ کے بھی۔واقف بھی ہوتے ہیں اور نا واقف بھی۔ایسے لوگوں کی گفتگوئیں کبھی علمی رنگ کی ہوتی ہیں اور کبھی کج بحثی والی۔کبھی ان میں تحقیق حق مد نظر ہوتی ہے اور کبھی محض چھیڑ خانی مقصد ہوتا ہے۔مگر خواہ کوئی بھی مقصد و مدعا ہو ، دو باتیں ہیں جو ہماری جماعت کے ان لوگوں کو