خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 26
خلافة على منهاج النبوة ۲۶ جلد سوم میں کوئی خاص نقص نہ ہو جس کا اثر جماعت کے فوائد پر پڑتا ہو تو اسے ہی رہنے دینا چاہیے۔تا انہیں کام کرنے کا موقع اور مل سکے۔ابھی کام ابتدائی حالت میں تھا اور کمیٹی نے ٹیکس بھی وصول کرنے تھے۔اور یہ قدرتی بات ہے کہ ایسی حالت میں کام کرنے والوں سے منافرت سی پیدا ہو جاتی ہے۔لیکن وہ جو کچھ کرتے رہے ہیں اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ جماعت کے فائدہ کے لئے کرتے رہے ہیں۔کیونکہ جب تک کسی قوم کو تمدنی حقوق نہ ملیں اور اس میں انہیں استعمال کرنے کی عادت نہ ہو جائے خاطر خواہ ترقی نہیں ہوسکتی۔ٹیکس وغیرہ کا لگانا اور وصول کرنا جن لوگوں کے ذمہ ہوتا ہے وہ ہمیشہ نکو بن جایا کرتے ہیں۔اور ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سختی کی۔حالانکہ وہ جو کچھ کرتے ہیں شہر کے فائدہ اور آئندہ ممبروں کی سہولت کے لئے کرتے ہیں۔اس ڈیوٹی کے لحاظ سے ان کے خلاف بعض باتیں ایسی ہو سکتی ہیں جن کی بنا پر ان کی مخالفت کا خیال پیدا ہو۔لیکن ان کا خیال نہیں کرنا چاہئے۔اگر موجودہ ممبروں میں سے کسی کا وجو د سلسلہ کے مفاد کے لحاظ سے نقصان رساں ہو تو اسے ضرور بدل دینا چاہئے۔لیکن اگر ضرر کا سوال نہ ہو تو خواہ ان سے بہتر آدمی بھی مل سکیں تو بھی انکوا بھی نہیں ہٹانا چاہئے بلکہ کام کرنے کے لئے انہیں مزید موقع دینا چاہئے تا کہ وہ مفید عام کا م کر کے دکھا سکیں۔الفضل ۱۸ مارچ ۱۹۳۰ء ) 66