خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 320

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم ممکن ہے میں انتخاب میں کوئی غلطی کر جاؤں اور اس طرح قیامت کے روز خدا تعالیٰ کے حضور مجھے جواب دہ ہونا پڑے۔پس میں کیوں اس بوجھ کو برداشت کروں۔شاید ماں باپ یہ سمجھتے ہوں کہ لڑکیوں کا نکاح کرتے وقت ان پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔مگر میرے نزدیک والدین پر بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے اور ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اور دعاؤں سے کام لینے کے بعد اپنی لڑکیوں کا نکاح کیا کریں۔اگر وہ بے احتیاطی سے کام لیں گے تو یقیناً وہ خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہوں گے پس جبکہ نکاح کرانا ایک خاص ذمہ داری کا کام ہے تو بالکل ممکن ہے مجھ سے کسی کے معاملہ میں کوئی بے احتیاطی ہو جائے اور قیامت کے دن باپ تو آزاد ہو جائے اور میں اس کا جواب دہ ٹھہر جاؤں۔پس با وجود اس کے کہ میرے زمانہ خلافت میں سینکڑوں لوگوں نے مجھے یہ کہا ہوگا کہ آپ جہاں چاہیں میری لڑکیوں کا نکاح کر دیں۔مجھے اس وقت ایک مثال بھی ایسی یاد نہیں جس میں میں نے دخل دیا ہو اور اپنی مرضی سے ان کی لڑکیوں کا کہیں نکاح کر دیا ہو۔میں ہمیشہ انہیں یہی جواب دیتا ہوں کہ جب مجھے کسی رشتہ کا علم ہوا تو آپ کو اطلاع دے دوں گا۔آگے یہ ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ غور کر لیں کہ وہ یہ رشتہ ان کے لئے موزوں ہے یا نہیں۔ایسے موقع پر بعض لوگ اصرار بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں میں نے اپنی لڑکیوں کا معاملہ آپ کے سپر د کر دیا ہے مگر میں یہی کہتا ہوں کہ میں اس کے لئے تیار نہیں۔ہاں جب بھی مجھے رشتوں کا علم ہوگا میں لڑکے آپ کے سامنے پیش کرتا چلا جاؤں گا۔آپ کو پسند آئیں تو لیتے جائیں اور اگر پسند نہ آئیں تو رڈ کرتے جائیں۔تو اللہ تعالیٰ نے اُولی الامر کو جو حکومت دی ہے وہ ذاتی معاملات میں نہیں قومی معاملات میں ہے۔رسول کو بھی اور خلیفہ کو بھی اور اولی الامر کو بھی یہ قطعاً حق حاصل نہیں کہ وہ ذاتی معاملات میں لوگوں پر رعب جتائیں۔مثلاً مجھے یہ حق نہیں کہ میں جماعت کے کسی آدمی سے یہ کہوں کہ میں چونکہ خلیفہ ہوں اس لئے تم میری نوکری کرو اور جو تنخواہ میں دوں وہ قبول کرو۔یہ خلافت کا کام نہیں بلکہ ایک دنیوی کام ہے اور دوسرے شخص کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اگر چاہے تو انکار کر دے چاہے یہی کہے کہ میں نو کر نہیں ہونا چاہتا اور چاہے یہ کہے کہ جو تنخواہ آپ دیتے ہیں وہ مجھے منظور نہیں ا۔ނ