خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 321
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۱ جلد سوم کوئی گناہ نہیں ہوگا کیونکہ شریعت نے ان معاملات میں اسے آزادی بخشی ہے۔یا فرض کرو میں اپنا مکان بنانے کے لئے کسی دوست سے کوئی زمین خریدنا چاہتا ہوں تو ہر شخص کا حق ہے کہ وہ اگر چاہے تو انکار کر دے۔مثلاً یہی کہہ دے کہ جو قیمت آپ دینا چاہتے ہیں اس پر میں زمین فروخت کرنے کے لئے تیار نہیں۔یا یہ کہہ دے کہ میں زمین بیچنا ہی نہیں چاہتا۔بہر حال یہ اس کا حق ہے جسے وہ استعمال کر سکتا ہے۔یہی حال اولی الامر کا ہے۔ہماری جماعت میں بھی کچھ ناظر ہیں اور کچھ ناظروں کے ماتحت عہد یدار مقرر ہیں۔ان ناظروں اور عہدیداروں کو بھی وہی محدود اختیارات حاصل ہیں جو جماعتی نظام سے تعلق رکھتے ہیں۔جہاں ایسے کاموں کا سوال آ جائے گا جو نظام جماعت سے سے تعلق نہیں رکھتے وہاں اگر بعض لوگ ان کے کرنے سے انکار کر دیں تو یہ ان کا حق سمجھا جائے گا۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میرے پاس ایسی رپورٹیں پہنچتی رہتی ہیں کہ بعض آدمی ذاتی کام لیتے وقت اپنے عہدہ کے جتانے کے عادی ہیں۔اور وہ بات کرتے وقت دوسروں سے کہہ دیتے ہیں کہ تم جانتے ہو میں کون ہوں میں ناظرا مور عامہ ہوں یا ناظر تعلیم وتر بیت ہوں یا ناظر اعلیٰ ہوں یا فلاں عہد یدار ہوں۔اس قسم کے الفاظ کا دہرا نا یقیناً اس ذمہ داری کے ادا کرنے کے خلاف ہے جس کا اسلام ان سے مطالبہ کرتا ہے۔ہر شخص جسے خدا نے بعض معاملات میں آزادی دے رکھی ہے اس کے متعلق ہم یہ حق نہیں رکھتے کہ اس کی آزادی کو سلب کر یں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مثال موجود ہے۔آپ نے ذاتی معاملات میں کبھی دخل نہیں دیا۔آپ نے بریرہ سے یہ نہیں کہا کہ میں خدا کا رسول ہوں تم میری بات مان لو۔بلکہ فرمایا کہ یہ میرا ذاتی مشورہ ہے اسے ماننا یا نہ ماننا تمہارے اختیار کی بات ہے۔اسی طرح بعض سو دے ہوئے جن کے متعلق آپ نے صحابہ سے یہی فرمایا کہ لوگوں سے مشورہ کر لو اور جو کچھ صحیح سمجھو اس کے مطابق کام تو جماعت کے ذمہ دار کارکنوں کو میں ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنے عہدے لوگوں کو ڈرانے کے لئے استعمال نہ کیا کریں۔جو شخص کسی جھگڑے کے موقع پر یہ کہتا ہے کہ تم جانتے