خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 319

خلافة على منهاج النبوة ۳۱۹ جلد سوم اطاعت بھی نہیں۔یوں تو رسول کا مقام ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہی حکم دیتا ہے کہ اس کی اطاعت کرو۔مگر خدا نے انہیں جو حق دیا ہے وہ ہر بات میں نہیں اور نہ ہر بات میں انہوں نے کبھی اپنے حق کا اظہار کیا ہے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو یہ حق نہیں تھا اور نہ آپ نے کبھی ایسا کیا کہ کسی کی بیٹی کا اپنی مرضی سے کسی دوسرے سے نکاح کر دیں۔اسی طرح آپ نے کبھی کسی سے نہیں کہا کہ اپنا مکان فلاں کو دے دو بلکہ آپ نے ان امور میں ان کے اختیارات کو بحال رکھا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانہ میں ایک لڑکی جو غلام تھی اور اس کا خاوند بھی غلام تھا کچھ عرصہ کے بعد آزاد ہوئی تو اسے شریعت کے ماتحت اس امر کا اختیار دیا گیا کہ چاہے تو وہ اپنے غلام خاوند کے نکاح میں رہے اور چاہے تو نہ رہے۔اتفاق کی بات ہے بیوی کو اپنے خاوند سے شدید نفرت تھی اور ادھر خاوند کی یہ حالت تھی کہ اس کو بیوی سے عشق تھا۔جب وہ آزاد ہوئی اور غلام نہ رہی تو اس نے کہا کہ میں اب اس کے پاس نہیں رہ سکتی۔خاوند کو چونکہ اس کے ساتھ شدید محبت تھی اس لئے جہاں وہ جاتی وہ پیچھے پیچھے چلا جاتا اور رونا شروع کر دیتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اسے اس حالت میں دیکھا تو آپ کو رحم آیا اور آپ نے اس لڑکی سے کہا کہ تم اس کے پاس رہو تمہارا کیا حرج ہے۔اس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ آپ کا حکم ہے یا مشورہ۔آپ نے فرمایا مشورہ ہے حکم نہیں کیونکہ اب تم آزاد ہو چکی ہوا اور شریعت کی طرف سے تمہیں اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ چا ہو تو تم اپنے غلام خاوند کے پاس رہو اور چاہو تو نہ رہو۔اس نے کہا يَا رَسُولَ الله ! اگر یہ آپ کا مشورہ ہے تو پھر میں اسے ماننے کے لئے تیار نہیں۔مجھے اس سے نفرت ہے۔تو ذاتی معاملات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کبھی دخل نہیں دیتے تھے۔اسی طرح خلفاء نے بھی کبھی ذاتی معاملات میں دخل نہیں دیا۔خود میرے پاس کئی لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری لڑکی کا آپ جہاں چاہیں نکاح پڑھا دیں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔مگر باوجود اس کے کہ آج تک مجھے سینکڑوں لوگوں نے ایسا کہا ہوگا میں نے کسی ایک کی بات بھی نہیں مانی میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ کہ مجھ پر کیا آگے ذمہ داریاں کم ہیں کہ اب میں اور ذمہ داریوں کو بھی اُٹھالوں۔