خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 313

خلافة على منهاج النبوة ٣١٣ جلد سوم خلافت کے مخالفین کا ذکر خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۴۰ء میں حضور نے اپنے ایک خواب کا ذکر کرتے ہوئے خلافت کے مخالفین کا ذکر کیا آپ فرماتے ہیں :۔۔میں نے ایک خواب دیکھا پہلے تو میں سمجھتا تھا کہ اس کا مطلب کچھ اور ہے مگر اب میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہ ان کے اور ان کی قماش کے دوسرے لوگوں کے متعلق ہو۔میں نے دیکھا کہ ایک چار پائی ہے جس پر میں بیٹھا ہوں۔سامنے ایک بڑھیا عورت جو بہت ہی کر یہہ النظر ہے کھڑی ہے اس نے دو سانپ چھوڑے ہیں جو مجھے ڈسنا چاہتے ہیں۔وہ چار پائی کے نیچے ہیں اور سامنے نہیں آتے تا جب میں نیچے اتروں تو پیچھے سے کود کر ڈس لیں۔میرا احساس یہ ہے کہ ان میں سے ایک چارپائی کے ایک سرے پر ہے اور دوسرا دوسرے سرے پر تا میں جدھر سے جاؤں حملہ کر سکیں۔میں کھڑا ہو گیا ہوں اور جلدی جلدی کبھی پائنتی کی طرف جاتا ہوں اور کبھی سرہانے کی طرف۔میں خیال کرتا ہوں کہ جب میں پائنتی کی طرف جاؤں گا تو سر ہانے کی طرف کا سانپ اس طرف دوڑے گا اور جب سرہانہ کی طرف آؤں گا تو پائنتی والا اس طرف آئے گا اور اس طرح میں ان کو جھانسہ دے کر نکل جاؤں گا۔پانچ سات مرتبہ اس طرح کرنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اب دونوں سانپ ایک ہی طرف ہیں اور میں دوسری طرف سے کود پڑا۔جب نیچے اترا تو میں نے دیکھا کہ واقعی وہ دونوں دوسری طرف تھے۔میں فوراً ان کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا۔ان میں سے ایک نے مجھ پر حملہ کیا اور میں نے اسے مار دیا پھر دوسرے نے حملہ کیا اور میں نے اسے مارا۔مگر میں سمجھتا ہوں ابھی وہ کچھ زندہ سا ہی ہے۔اس جگہ کے پہلو میں ایک علیحدہ جگہ ہے میں ہٹ کر اس کی طرف چلا گیا ہوں۔وہاں ایک نہایت خوبصورت نوجوان ہے