خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 314

خلافة على منهاج النبوة ۳۱۴ جلد سوم جو میں سمجھتا ہوں فرشتہ ہے اور گویا میری مدد کے لئے آیا ہے۔وہ عورت چاہتی ہے کہ اس سانپ کو پکڑ کر مجھ پر پھینکے مگر وہ نوجوان میرے آگے آ گیا اور میری حفاظت کر نے لگا۔عورت نے نشانہ تاک کر اس پر مارا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی فوق العادت طاقت کا ہے۔اس نے اسے سر سے پکڑ لیا اور چاقو نکال کر اس کی گردن کاٹ دی۔اس عورت نے پھر اس کٹی ہوئی گردن کو اُٹھایا اور ہماری طرف پھینکنا چاہتی ہے۔کبھی اس کی طرف نشانہ باندھتی ہے اور کبھی میری طرف۔مگر اس فرشتہ نے مجھے پیچھے کر دیا اور خود آگے ہو گیا اور اسے پھینکنے کا موقع نہیں دیتا۔آخر ایک دفعہ اس عورت نے پھینکا مگر فرشتہ آگے سے ایک طرف ہو گیا۔سامنے کچی دیوار تھی وہ اس دیوار میں لگا اور اس میں سوراخ ہو گیا وہ اس سوراخ کے اندر ہی گھس گیا۔میری پیٹھ اس طرف ہے۔وہ فرشتہ ایک کمرہ کی طرف جو پہلو میں ہے اشارہ کر کے مجھ سے کہتا ہے کہ تم ادھر ہو جاؤ اس سوراخ میں سے یہ سانپ پھر نکلیں گے ( گویا ان کی موت مجازی تھی اور جسمانی موت نہ تھی اور ابھی وہ حقیقتا زندہ تھے )۔میں نے دیکھا کہ کبھی وہ اس سوراخ میں سے سر نکالتا ہے اور کبھی زبان ہلاتا ہے کبھی ادھر اور کبھی اُدھر رُخ کرتا ہے۔گویا چاہتا ہے کہ ہم ذرا غافل ہوں تو حملہ کر دے۔جونہی وہ سر نکالتا ہے فرشتہ اس کو ڈراتا ہے اور وہ جھٹ اندر چلا جاتا ہے۔اتنے میں یکدم یوں معلوم ہوا کہ ایک کی بجائے دوسانپ ہیں اور گویا دوسرا سانپ جسے میں نے مردہ سمجھا تھا وہ بھی درحقیقت زندہ تھا۔چنانچہ پہلے تو ایک ہی سوراخ تھا مگر یکدم ایک اور نمودار ہو گیا اور دونوں سانپ ان سوراخوں میں سے کو دے اور زمین پر گرتے ہی آدمی بن گئے جو بڑے قَوِی الْجُنّه ہیں۔اس پر فرشتہ نے کسی عجیب سی زبان میں کوئی بات کی جسے میں نہیں سمجھ سکا۔ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اس نے کسی زبان میں جسے میں نہیں جانتا دعائیہ الفاظ کہے ہیں اور وہ الفاظ ہا کی پاکی“ کے الفاظ سے مشابہ ہیں۔مگر چونکہ وہ غیر زبان ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ یہی الفاظ ہیں یا ان سے ملتے جلتے کوئی اور الفاظ۔اس کے دعائیہ الفاظ کا اس کی زبان سے جاری ہونا تھا کہ میں نے دیکھا دونوں حملہ آور قید ہو گئے اور ان میں سے جو میرے قریب تھا میں نے دیکھا کہ اس کے دونوں ہاتھ اوپر اُٹھے اور ان میں ہتھکڑیاں پڑ گئیں مگر اس طرح کہ