خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 14
خلافة على منهاج النبوة ۱۴ جلد سوم سلطان ترکی کو خلیفتہ المسلمین نہیں مانتے۔ہم اس لئے لڑنے کے لئے گئے کہ ترک ہمارے بادشاہ کے مخالف تھے اور ہم اپنے بادشاہ کے مخالف سے لڑنے گئے تھے۔پس ہمار ا فعل جائز اور شریعت کے مطابق تھا۔مگر جب جنگ کا نتیجہ نکلنے لگا اور صلح ہونے لگی تو وہ لوگ جو نہ صرف ترکوں سے لڑنے کو تیار تھے بلکہ لڑے تھے اور جنہوں نے اپنے خلیفہ کے قائم مقاموں کے سینوں پر گولیاں چلا کر اور ان سے ملک چھین کر انگریزوں کے قبضہ میں دیا تھا بگڑ گئے اور کہنے لگے یہ کیوں کرتے ہو اگر ایسا کرو گے تو یہ ہمارے مذہب میں دست اندازی ہوگی اور اس بات کے لئے انہوں نے انگریزوں کے ملک میں وہ طوفان بے تمیزی برپا کیا کہ اس کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔اس بارے میں ہمیں بھی ترکوں سے ہمدردی تھی۔اس لئے کہ ہمارے نز دیک ترکوں سے وہ سلوک نہیں کیا گیا تھا جو دوسرے مفتوحین سے کیا گیا۔ہمارے نزدیک دوسرے مفتوحوں کے مقابلہ میں ترکوں سے زیادہ سختی کی گئی تھی اور وہ محض اس لئے تھی کہ ترک مسلمان تھے گو آسٹریا سے بھی سختی کی گئی تھی مگر وہ سختی جو ترکوں سے کی گئی تھی زیادہ تھی کیونکہ آسٹریا کے علاقے آزاد تھے اور آزاد ہونا چاہتے تھے مگر ترکوں کے ماتحت جو علاقے تھے ان سے نہیں پوچھا گیا تھا کہ تم ترکوں کے ماتحت رہنا چاہتے ہو یا نہیں؟ انہیں انگریزوں اور امریکنوں اور فرانسیسیوں نے جبراً ترکوں سے علیحدہ کر لیا۔اگر ان علاقوں سے پوچھا جاتا تو ان میں کتنے ہی ترکوں کے ماتحت رہنے کو پسند کرتے۔جن علاقوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا اُن کی سنی نہ گئی۔پھر آسٹریا کا جو کچھ باقی رکھا گیا وہ آزاد تھا۔لیکن ترکوں کو جو آزادی دی گئی وہ برائے نام تھی اور چار پانچ طاقتوں کا ان پر تسلط تھا۔پس ترکوں کے متعلق اس فیصلہ سے مذہبی تعصب کی بو آتی تھی۔ہم نے فاتحین کے اس فیصلہ کے متعلق اس طریق پر کام کیا اور توجہ دلائی جو رعایا کے لئے ضروری ہے اور جس طرح توجہ دلانا ہمارا حق تھا کہ ترکوں کے ساتھ وہ کیا جائے جو سیاسی طور پر ضروری ہے نہ یہ کہ انکے ساتھ فیصلہ میں مذہبی تعصب کو دخل دیا جائے۔بعد میں اس کے مطابق فیصلہ ہوا اور یہ مان لیا گیا کہ پہلے صلح نامے میں سختی تھی اور ضروری تھا کہ اس میں تبدیلی کی جائے۔