خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 15
خلافة على منهاج النبوة ۱۵ جلد سوم لیکن باوجود اس کے وہ لوگ ہمیں بزدل اور خوشامدی کہنے لگے جو باوجو د ترک سلطان کو اپنا خلیفہ سمجھنے کے اس کے خلاف لڑنے کے لئے گئے تھے۔اگر ہم ترکوں کے سلطان کو اپنا خلیفہ مان کر اس سے لڑنے جاتے تو یہ ہماری بے غیرتی انگریزوں کی خوشامد اور انگریزوں کے مقابلہ میں بزدلی ہوتی۔مگر جب یہ بات نہ تھی تو خوشامد اور بزدلی کیسی ؟ ہم تو ترکوں کے ساتھ لڑنے کے لئے اس لئے نکلے کہ وہ ہمارے خلیفہ نہ تھے اور ان سے لڑنے میں ہمارے لئے کوئی مذہبی روک نہ تھی۔مگر غصہ میں انسان سوچتا نہیں۔اور وہ لوگ جن پر الزام آتا تھا غصہ میں آکر ہمیں الزام دینے لگے۔اسی غصہ کی حالت میں ایک غلط راستہ اختیار کر لیا گیا۔ابتدا میں ترکوں کے خلاف فیصلہ کے متعلق سوچنے کے لئے دو جلسے کئے گئے۔اور ان دونوں جلسوں میں مجھے بلایا گیا۔میں جانتا تھا کہ ذاتی طور پر ان جلسوں میں میرا شامل ہونا غیر ضروری ہے۔کیونکہ جس امر کے متعلق پہلے سے فیصلہ کر لیا جائے اس میں لوگوں کو بلا کر مشورہ کرنے کے معنی بجز اس کے کچھ نہیں کہ لوگوں کو اپنے پیچھے گھسٹتے پھریں۔تا ہم میں نے حجت قائم کرنے کے لئے ان جلسوں میں دو ٹریکٹ لکھ کر بھیج دیئے جن میں میں نے بتایا کہ جو رویہ تم اختیار کر رہے ہو اور جس پر اپنے مطالبات کی بنیا د رکھ رہے ہو یہ ترکوں کے لئے مفید نہیں ہوسکتا بلکہ خطرناک ہے۔مثلاً یہ کہنا کہ ترکوں کے بادشاہ کو سب مسلمان خلیفہ مانتے ہیں اس لئے ہم ان کی امداد کے لئے کھڑے ہوئے ہیں یہ اصولاً اور واقعتہ غلط تھا۔شیعہ ترک سلطان کو خلیفہ نہیں مانتے۔سات سو سال سے ایرانی حکومت عرب حکومت کے خلاف نبرد آزما رہی ہے اور پانچ چھ سو سال سے کرد اور ترک عرب کو زیر کرنے کی کوشش میں مصروف رہے ہیں اگر ایرانی خلیفہ سمجھتے تو ایسا کیوں کرتے۔علاوہ ازیں اگر خلافت کا حق مقدم سمجھا جائے تو ابو بکر، عمر، عثمان زیادہ مستحق ہیں کہ ان کو خلیفہ مانا جائے لیکن شیعہ جو ان کو خلیفہ نہیں مانتے وہ سلطان ترکی کو کس طرح خلیفہ مان سکتے ہیں۔پھر ہم لوگ ہیں ہم کسی بھی صورت میں ترک سلطان کو خلیفہ نہیں مان سکتے۔ہمارے نزد یک خلیفہ وہ ہو سکتا ہے جو اس زمانہ کے مامور حضرت مسیح موعود کا متبع ہو اور اس کے سوا کوئی خلیفہ نہیں ہوسکتا۔