خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 13

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم ماں باپ کو حق ہے کہ وہ ایسا کہیں۔ماں باپ کے ایسا کہنے پر کوئی اعتراض نہیں کرتا۔بچہ ایسی جگہ کھیلتا ہو جہاں اسے نہیں کھیلنا چاہئے اور جہاں سے ماں باپ نے اسے روکا ہو پھر اگر اسے تکلیف پہنچے تو ماں باپ کہتے ہیں ہم نے تمہیں پہلے نہیں کہا تھا کہ وہاں نہ کھیلو۔یہ ایک اخلاق کی بات ہے اور درست ہے ماں باپ کو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان کو یہ نہیں کہنا چاہئے لیکن اگر برابر کا یا چھوٹا بڑے کو یہی بات کہے تو اس کو متکبر اور بے ادب کہا جائے گا۔کیونکہ اس کو شرعاً ، عرفاً ، اخلاقاً ، قا نو نا حق نہیں کہ ایسا کہے جس کو حق حاصل ہوتا ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے تمہیں پہلے نہیں کہ دیا تھا کہ تمہیں ایسا کرنے میں نقصان ہوگا۔اس تمہید کے بعد میں ایک ایسے واقعہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو واقعہ مسلمانوں کے لئے نہایت اہم ہے اور وہ خلافت کا سوال ہے۔جب ترکوں کی انگریزوں سے لڑائی شروع ہوئی تو مسلمانوں نے انگریزوں کی مدد کی۔مولویوں نے فتوے دیئے کہ انگریزوں کی مدد کرنا فرض ہے اس لئے کہ وہ ہمارے حلیف ہیں اور حلیف کی مدد کرنا ضروری ہے۔اس قسم کے فتوے تنخواہوں کے خیال سے یا مربعوں کی امید پر یا عہدوں اور خطابوں کے لالچ میں یا حکام کی نظر میں پسندیدہ ہونے کے لیے دیئے گئے اور انگریزی فوج کے لیے رکروٹ (RECRUIT) سے بھرتی کروائے گئے۔اُس وقت بھی مسلمان ترکوں کے سلطان کو خلیفہ المسلمین کہتے تھے۔مگر خلیفہ المسلمین کی فوجوں کے مقابلہ میں بندوقیں کندھوں پر رکھ کر گئے اور ان ہی مقامات مقدسہ کو جن کے لئے بر سر جدال ہوئے خلیفہ المسلمین سے گولیوں اور تلواروں کے زور سے چھین لیا۔اُس وقت کسی نے اس کے خلاف آواز نہ اُٹھائی۔کیا اُس وقت قرآن کریم کا حکم یاد نہ رہا تھا ؟ اگر چہ وہ عقیدہ جو یہ لوگ اب ظاہر کرتے ہیں اسلامی نہیں۔مگر میں پوچھتا ہوں اس وقت اس عقیدے کے لحاظ سے ان کا کیا فرض تھا اور انہوں نے کیا کیا۔ہم نے بھی انگریزوں کی مدد کی مگر ہم اپنے مذہبی عقیدے کی رو سے فرض سمجھتے تھے کہ ہم جس حکومت کے ماتحت رہیں اس کی مدد اور اس کی ہمدردی کریں۔ہم انگریزوں کے ساتھ ہوکر ترکوں سے لڑنے کیلئے گئے۔مگر خلیفہ المسلمین سے لڑنے نہ گئے تھے۔کیونکہ ہم