خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 256
خلافة على منهاج النبوة ۲۵۶ جلد سوم اور ہماری نصرت اور تائید فرما۔پس الحمدلله کو پہلے رکھ کر اور ايّاكَ نَعْبُدُ وَايَّاكَ نَسْتَعِيین کو بعد میں رکھ کر اسلام نے یہ بتایا ہے کہ کوئی حمد اس وقت تک حقیقی حمد نہیں کہلا سکتی جب تک اس کے ساتھ ایک نئے کام کی بنیاد نہ ڈالی جائے ہر حمد جو حمد پر ختم ہو جاتی ہے وہ در حقیقت محمد نہیں بلکہ ناشکری ہے لفظ چاہے حمد کے ہوں مگر حقیقت اس میں ناشکری کی پائی جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی ایک مثال پائی جاتی ہے آپ رات کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے اور بعض دفعہ اتنی لمبی دیر نماز میں کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے جب آپ بوڑھے اور کمزور ہو گئے اور آپ میں اتنی طاقت نہ رہی کہ آپ اس مجاہدہ کو آسانی سے برداشت کر سکیں تو ایک دفعہ آپ کی بیوی نے کہا کہ آپ اتنی تکلیف کیوں اُٹھاتے ہیں؟ کیا آپ کی نسبت خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے تیرے اگلے پچھلے ذنوب معاف فرما دیئے ہیں اور کیا آپ کے ساتھ اس کی بخشش کے وعدے نہیں؟ جب ہیں تو آپ اس قدر تکلیف کیوں اُٹھاتے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ اے عائشہ (حضرت عائشہ کی طرف سے ہی یہ سوال تھا) افلا اكون عَبْدًا شَكُورًا سے کیا میں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ ہوں جب خدا نے مجھ پر اتنا بڑا احسان کیا ہے اور اس کا یہ احسان تقاضا کرتا ہے کہ میں آگے سے بھی زیادہ اس کی عبادت کروں اور آگے سے بھی زیادہ خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت میں لگ جاؤں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یہی بتایا ہے کہ انعام کے نتیجہ میں الحمدُ مومن کا آخری قول نہیں ہوتا بلکہ وہ آخری قول بھی ہوتا ہے اور نئے کام کی بنیاد بھی ہوتا ہے۔بہت لوگ جو اس حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں ان پر جب کوئی احسان ہوتا ہے تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے بڑا کام کر لیا اور یہ کہ اب ان کا کام ختم ہو گیا مگر اسلام ایسا نہیں کہتا ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کہتے بلکہ اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا کوئی احسان ہوتا ہے تو اس کے بعد بندوں پر نئی ذمہ داریاں رکھی جاتی ہیں اگر وہ ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کیلئے تیار ہوں تب وہ مستحق ہوتے ہیں لحمد لله کہنے کے اور بھی ان کی حمد کی الحمد کہلا سکتی ہے۔لیکن اگر ہم کام خ